سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المنافقون 63:10

63:10
وانفقوا من ما رزقناكم من قبل ان ياتي احدكم الموت فيقول رب لولا اخرتني الى اجل قريب فاصدق واكن من الصالحين ١٠
وَأَنفِقُوا۟ مِن مَّا رَزَقْنَـٰكُم مِّن قَبْلِ أَن يَأْتِىَ أَحَدَكُمُ ٱلْمَوْتُ فَيَقُولَ رَبِّ لَوْلَآ أَخَّرْتَنِىٓ إِلَىٰٓ أَجَلٍۢ قَرِيبٍۢ فَأَصَّدَّقَ وَأَكُن مِّنَ ٱلصَّـٰلِحِينَ ١٠
وَاَنْفِقُوْا
مِنْ
مَّا
رَزَقْنٰكُمْ
مِّنْ
قَبْلِ
اَنْ
یَّاْتِیَ
اَحَدَكُمُ
الْمَوْتُ
فَیَقُوْلَ
رَبِّ
لَوْلَاۤ
اَخَّرْتَنِیْۤ
اِلٰۤی
اَجَلٍ
قَرِیْبٍ ۙ
فَاَصَّدَّقَ
وَاَكُنْ
مِّنَ
الصّٰلِحِیْنَ
۟
اور خرچ کر دو اس میں سے جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اس سے پہلے پہلے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے پھر وہ اس وقت کہے کہ اے میرے رب ! تو نے مجھے ایک قریب وقت تک کیوں مہلت نہ دی کہ میں صدقہ کرتا اور نیک لوگوں میں سے ہوجاتا !
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

ایک ہی آیت میں انفاق کے لئے بیشمار موثر اکساہٹیں

وانفقو ................ رزقنکم (36 : 01) ” جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرو “۔ یہ سمجھایا جاتا ہے کہ تمہارے ہاں رزق اور وسائل رزق جو آتے ہیں وہ کہاں سے آتے ہیں ؟ یہ اس اللہ کے ہاں سے آتے ہیں جس پر تم ایمان لائے ہو ، اور جو تمہیں انفاق کا حکم دیتا ہے۔

من قبل .................... الموت (36 : 01) ” قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے “۔ بس اس سے سب کچھ رہ جائے اور یہ اسکی اولاد یا دوسروں کے پاس چلا جائے۔ اور اگلے جہاں میں جب وہ تلاش کرے تو اسے آگے بھیجا ہوا کچھ نظر نہ آئے۔ یہ سب سے بڑی حماقت اور سب سے بڑا خسارہ ہے۔ پھر وہاں یہ تمنائیں کرے گا کہ اسے دوبارہ مہلت دی جائے اور وہ دوبارہ صالحین میں سے بن جائے گا۔ لیکن یہ تو محض تمنا ہی ہوگی۔