سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: المؤمنون 23:106

23:106
قالوا ربنا غلبت علينا شقوتنا وكنا قوما ضالين ١٠٦
قَالُوا۟ رَبَّنَا غَلَبَتْ عَلَيْنَا شِقْوَتُنَا وَكُنَّا قَوْمًۭا ضَآلِّينَ ١٠٦
قَالُوْا
رَبَّنَا
غَلَبَتْ
عَلَیْنَا
شِقْوَتُنَا
وَكُنَّا
قَوْمًا
ضَآلِّیْنَ
۟
وہ کہیں گے : اے ہمارے پروردگار ! ہماری بدبختی ہم پر غالب آگئی تھی اور (ہم تسلیم کرتے ہیں کہ) ہم گمراہ لوگ تھے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 23:106 سے 23:107 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قالوا ربنا۔۔۔۔۔۔۔ ظلمون (107) ” “ یہ نہایت ہی تلخ اعتراف ہے اور ان کی بدبختی اس میں عیاں نظر آتی ہے۔ انہوں نے حدود سے تجاوز کیا اور سوئے ادب کا ارتکاب کیا کیونکہ ان کو صرف سوال کا جواب دینے کی اجازت تھی۔ بلکہ یہ بھی ممکن ہے کہ یہ سوال ہی محض ذلیل کرنے کے لیے ہو۔ جواب مطلوب ہی نہ ہو۔ اس لیے ان کی اس درخواست کا جواب سختی سے دیا جاتا ہے کیونکہ درخواست ان سے طلب ہی نہ کی گئی تھی۔