سائن ان کریں۔
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
🚀 ہمارے رمضان چیلنج میں شامل ہوں!
مزيد جانیے
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
12:5
۞ ولقد اخذ الله ميثاق بني اسراييل وبعثنا منهم اثني عشر نقيبا وقال الله اني معكم لين اقمتم الصلاة واتيتم الزكاة وامنتم برسلي وعزرتموهم واقرضتم الله قرضا حسنا لاكفرن عنكم سيياتكم ولادخلنكم جنات تجري من تحتها الانهار فمن كفر بعد ذالك منكم فقد ضل سواء السبيل ١٢
۞ وَلَقَدْ أَخَذَ ٱللَّهُ مِيثَـٰقَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَبَعَثْنَا مِنْهُمُ ٱثْنَىْ عَشَرَ نَقِيبًۭا ۖ وَقَالَ ٱللَّهُ إِنِّى مَعَكُمْ ۖ لَئِنْ أَقَمْتُمُ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتَيْتُمُ ٱلزَّكَوٰةَ وَءَامَنتُم بِرُسُلِى وَعَزَّرْتُمُوهُمْ وَأَقْرَضْتُمُ ٱللَّهَ قَرْضًا حَسَنًۭا لَّأُكَفِّرَنَّ عَنكُمْ سَيِّـَٔاتِكُمْ وَلَأُدْخِلَنَّكُمْ جَنَّـٰتٍۢ تَجْرِى مِن تَحْتِهَا ٱلْأَنْهَـٰرُ ۚ فَمَن كَفَرَ بَعْدَ ذَٰلِكَ مِنكُمْ فَقَدْ ضَلَّ سَوَآءَ ٱلسَّبِيلِ ١٢
۞ وَلَقَدۡ
اَخَذَ
اللّٰهُ
مِيۡثَاقَ
بَنِىۡۤ
اِسۡرآءِيۡلَ​ۚ
وَبَعَثۡنَا
مِنۡهُمُ
اثۡنَىۡ
عَشَرَ
نَقِيۡبًا​ ؕ
وَقَالَ
اللّٰهُ
اِنِّىۡ
مَعَكُمۡ​ؕ
لَٮِٕنۡ
اَقَمۡتُمُ
الصَّلٰوةَ
وَاٰتَيۡتُمُ
الزَّكٰوةَ
وَاٰمَنۡتُمۡ
بِرُسُلِىۡ
وَعَزَّرۡتُمُوۡهُمۡ
وَاَقۡرَضۡتُمُ
اللّٰهَ
قَرۡضًا
حَسَنًا
لَّاُكَفِّرَنَّ
عَنۡكُمۡ
سَيِّاٰتِكُمۡ
وَلَاُدۡخِلَـنَّكُمۡ
جَنّٰتٍ
تَجۡرِىۡ
مِنۡ
تَحۡتِهَا
الۡاَنۡهٰرُ​ۚ
فَمَنۡ
كَفَرَ
بَعۡدَ
ذٰ لِكَ
مِنۡكُمۡ
فَقَدۡ
ضَلَّ
سَوَآءَ
السَّبِيۡلِ‏
١٢
اور اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے بھی میثاق لیا تھا اور ان میں ہم نے مقرر کیے تھے بارہ نقیب اور اللہ نے (ان سے) فرمایا تھا کہ میں تمہارے ساتھ ہوں اگر تم نے نماز کو قائم رکھا اور زکوٰۃ ادا کرتے رہے اور میرے رسولوں پر ایمان لاتے رہے اور ان (رسولوں) کی تم مدد کرتے رہے اور اللہ کو قرض حسنہ دیتے رہے تو میں لازماً دور کردوں گا تم سے تمہاری برائیاں اور میں لازماً داخل کر دوں گا تمہیں ان باغات میں جن کے دامن میں ندیاں بہتی ہوں گی تو جس نے کفر کیا اس کے بعد تم میں سے تو وہ سیدھے راستے سے بھٹک کر رہ گیا۔
تفاسیر
تہیں
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
عہد شکن لوگ اور امام مہدی کون؟ ٭٭

اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے اپنے مومن بندوں کو عہد و پیمان کی وفاداری، حق پر مستقیم رہنے اور عدل کی شہادت دینے کا حکم دیا تھا۔ ساتھ ہی اپنی ظاہری و باطنی نعمتوں کو یاد دلایا تھا۔ تو اب ان آیتوں میں ان سے پہلے کے اہل کتاب سے جو عہد و میثاق لیا تھا، اس کی حقیقت و کیفیت کو بیان فرما رہا ہے، پھر جبکہ انہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد و پیمان توڑ ڈالے تو ان کا کیا حشر ہوا، اسے بیان فرما کر گویا مسلمانوں کو عہد شکنی سے روکتا ہے۔

ان کے بارہ سردار تھے۔ یعنی بارہ قبیلوں کے بارہ چودھری تھے جو ان سے ان کی بیعت کو پورا کراتے تھے کہ یہ اللہ اور رسول علیہ السلام کے تابع فرمان رہیں اور کتاب اللہ کی اتباع کرتے رہیں۔ موسیٰ علیہ السلام جب سرکشوں سے لڑنے کیلئے گئے تب ہر قبیلہ میں سے ایک ایک سردار منتخب کر گئے تھے۔ اوبیل قبیلے کا سردار شامون بن اکون تھا، شمعونیوں کا چودھری شافاط بن جدی، یہودا کا کالب بن یوحنا، فیخائیل کا ابن یوسف اور افرایم کا یوشع بن نون اور بنیامین کے قبیلے کا چودھری قنطمی بن وفون، زبولون کا جدی بن شوری، منشاء کاجدی بن سوسی، دان حملاسل کا ابن حمل، اشار کا ساطور، تفتای کا بحر اور یاسخر کالابل۔ توراۃ کے چوتھے جز میں بنو اسرائیل کے قبیلوں کے سرداروں کے نام مذکور ہیں۔ جو ان ناموں سے قدرے مختلف ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ۔

صفحہ نمبر2226

موجودہ تورات کے نام یہ ہیں۔ بنو ادبیل پر صونی بن سادون، بنی شمعون پر شموال بن صور، بنو یہود پر حشون بن عمیاذب، بنو یساخر پر شال بن صاعون، بنو زبولوں پر الیاب بن حالوب، بنو افرایم پر منشابن عنہور، بنو منشاء پر حمائیل بنو بیبا میں پر ابیدن، بنودان پر جعیذ ربنو اشاذ نحایل۔

بون کان پر سیف بن دعوابیل، بنو نفعالی پر اجذع۔ یاد رہے کہ لیلتہ العقبہ میں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انصار سے بیعت لی اس وقت ان کے سردار بھی بارہ ہی تھے۔ تین قبیلہ اوس کے۔ حضرت اسید بن حضیر، سعد بنی خیشمہ اور رفاعہ بن عبد المنذر رضی اللہ عنہم اور نو سردار قبیلہ خزرج تھے۔ ابوامامہ، اسعد بن زرارہ، سعد بن ربیع، عبداللہ بن رواحہ، رافع بن مالک بن عجلان براء بن معرور عبادہ بن صامت، سعد بن عبادہ، عبداللہ بن عمرو بن حرام، منذربن عمرو بن حنیش رضی اللہ عنہم اجمعین۔ انہی سرداروں نے اپنی اپنی قوم کی طرف سے پیغمبر آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے فرامین سننے اور ماننے کی بیعت کی۔

صفحہ نمبر2227

حضرت مسروق رحمة الله فرماتے ہیں ہم لوگ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے تھے، آپ رضی اللہ عنہ ہمیں اس وقت قرآن پڑھا رہے تھے تو ایک شخص نے سوال کیا کہ آپ لوگوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بھی پوچھا ہے کہ اس امت کے کتنے خلیفہ ہوں گے؟ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا ”میں جب سے عراق آیا ہوں، اس سوال کو بجز تیرے کسی نے نہیں پوچھا، ہم نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: بارہ ہوں گے، جتنی گنتی بنو اسرائیل کے نقیبوں کی تھی ۔ [مسند احمد:389/1:ضعیف] ‏ یہ روایت سنداً غریب ہے، لیکن مضمون حدیث بخاری اور مسلم کی روایت سے بھی ثابت ہے۔

صفحہ نمبر2228

جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے، لوگوں کا کام چلتا رہے گا، جب تک ان کے والی بارہ شخص نہ ہولیں ، پھر ایک لفظ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا لیکن میں نہ سن سکا تو میں نے دوسروں سے پوچھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اب کون سا لفظ فرمایا، انہوں نے جواب دیا یہ فرمایا کہ یہ سب قریش ہوں گے ۔ [صحیح بخاری:7223-7222] ‏ صحیح مسلم میں یہی لفظ ہیں۔

اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ بارہ خلیفہ صالح نیک بخت ہونگے۔ جو حق کو قائم کریں گے اور لوگوں میں عدل کرینگے۔ اس سے یہ ثابت نہیں ہوتا کہ یہ سب پے در پے یکے بعد دیگرے ہی ہوں۔

صفحہ نمبر2229

پس چار خلفاء تو پے در پے سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان، سیدنا علی رضی اللہ عنہم جن کی خلافت بطریق نبوت رہی۔ انہی بارہ میں سے پانچویں عمر بن عبدالعزیز رحمة الله ہیں۔

بنو عباس میں سے بھی بعض اسی طرح کے خلیفہ ہوئے ہیں اور قیامت سے پہلے پہلے ان بارہ کی تعداد پوری ہونی ضروری ہے اور انہی میں سے امام مہدی رحمة الله ہیں، جن کی بشارت احادیث میں آ چکی ہے ان کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نام پر ہو گا اور ان کے والد کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے والد کا ہو گا، زمین کو عدل و انصاف سے بھر دینگے حالانکہ اس سے پہلے وہ ظلم و جبر سے پُر ہوگی [سنن ابوداود:4282،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏

لیکن اس سے شیعوں کا امام منتظر مراد نہیں، اس کی تو دراصل کوئی حقیقت ہی نہیں، نہ سرے سے اس کا کوئی وجود ہے، بلکہ یہ تو صرف شیعہ کی وہم پرستی اور ان کا تخیل ہے، نہ اس حدیث سے شیعوں کے فرقے اثنا عشریہ کے ائمہ مراد ہیں۔ اس حدیث کو ان ائمہ پر محمول کرنا بھی شیعوں کے اس فرقہ کی بناوٹ ہے جو ان کی کم عقلی اور جہالت کا کرشمہ ہے۔

صفحہ نمبر2230

توراۃ میں سیدنا اسمعیل علیہ السلام کی بشارت کے ساتھ ہی مرقوم ہے کہ ان کی نسل میں سے بارہ بڑے شخص ہونگے، اسے مراد بھی یہی مسلمانوں کے بارہ قریشی بادشاہ ہیں لیکن جو یہودی مسلمان ہوئے تھے، وہ اپنے اسلام میں کچے اور جاہل بھی تھے، انہوں نے شیعوں کے کان میں کہیں یہ صور پھونک دیا اور وہ سمجھ بیٹھے کہ اس سے مراد ان کے بارہ امام ہیں، ورنہ حدیثیں اس کے واضح خلاف موجود ہیں۔

صفحہ نمبر2231
He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran
Notes placeholders
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں