سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الكافرون 109:3

109:3
ولا انتم عابدون ما اعبد ٣
وَلَآ أَنتُمْ عَـٰبِدُونَ مَآ أَعْبُدُ ٣
وَلَاۤ
اَنْتُمْ
عٰبِدُوْنَ
مَاۤ
اَعْبُدُ
۟ۚ
اور نہ تم پوجنے والے ہو اسے جسے میں پوجتا ہوں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 109:1 سے 109:6 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یہ سورۃ مکہ کے آخری زمانہ میں اتری۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابتداء ً ایک عرصہ تک ’’اے میری قوم‘‘ کے لفظ سے لوگوں کو پکارتے رہے۔ مگر جب اتمام حجت کے باوجود انہوں نے نہ مانا تو آپ نے ایہا الکافرون (اے انکار کرنے والو) کے لفظ سے خطاب فرمایا۔ اس مرحلہ میں یہ فقرہ در اصل کلمہ براءت ہے، نہ کہ کلمہ دعوت۔

میرے لیے میرا دین، تمہارے لیے تمہارا دین— یہ دوسروں کے دین کی تصدیق نہیں۔ یہ ایک طرف اپنے حق پر جمے رہنے کا آخری اظہار ہے۔ اور دوسری طرف وہ مخاطب کی اس حالت کا اعلان ہے کہ تم اب ضد کی اس آخری حد پر آگئے ہو جہاں سے کوئی شخص کبھی نہیں پلٹتا۔