سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الجن 72:5

72:5
وانا ظننا ان لن تقول الانس والجن على الله كذبا ٥
وَأَنَّا ظَنَنَّآ أَن لَّن تَقُولَ ٱلْإِنسُ وَٱلْجِنُّ عَلَى ٱللَّهِ كَذِبًۭا ٥
وَّاَنَّا
ظَنَنَّاۤ
اَنْ
لَّنْ
تَقُوْلَ
الْاِنْسُ
وَالْجِنُّ
عَلَی
اللّٰهِ
كَذِبًا
۟ۙ
اور یہ کہ ہم تو اس گمان میں رہے کہ جن اور انسان اللہ پر ہرگز کوئی جھوٹ نہیں باندھیں گے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 72:1 سے 72:7 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یہاں انسان کے سوا ایک اور مخلوق آباد ہے جس کو جن کہتے ہیں۔ انسان اس کو نہیں دیکھتا۔ قرآن میں ایک سے زیادہ مقام پر ان کا ذکر کیا گیا ہے۔ سورۃ جن کی ان آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ جنوں میں بھی گمراہ اور ہدایت یاب دونوں قسم کے ہوتے ہیں۔ انسانوں میں جس طرح نادان رہنما عوام کو بہکاتے ہیں۔ اسی طرح جنوں میں بھی نادان رہنما ہیں۔ اور وہ پرفریب الفاظ بول کر انہیں راستہ سے بھٹکاتے رہتے ہیں۔