سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
17:75
اذا لاذقناك ضعف الحياة وضعف الممات ثم لا تجد لك علينا نصيرا ٧٥
إِذًۭا لَّأَذَقْنَـٰكَ ضِعْفَ ٱلْحَيَوٰةِ وَضِعْفَ ٱلْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَيْنَا نَصِيرًۭا ٧٥
اِذًا
لَّاَذَقْنٰكَ
ضِعْفَ
الْحَیٰوةِ
وَضِعْفَ
الْمَمَاتِ
ثُمَّ
لَا
تَجِدُ
لَكَ
عَلَیْنَا
نَصِیْرًا
۟
(اگر ایساہو جاتا) تب ہم آپ کو دگنی سزا دیتے زندگی میں اور دگنی سزا دیتے موت پر پھر نہ پاتے آپ اپنے لیے ہمارے مقابلے میں کوئی مددگار
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 17:73 سے 17:75 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
باب

مکار و فجار کی چالاکیوں سے اللہ تعالیٰ ہمیشہ اپنے رسول کو بچاتا رہا، آپ کو معصوم اور ثابت قدم ہی رکھا، خود ہی آپ کا ولی و ناصر رہا، اپنی ہی حفاظت اور صیانت میں ہمیشہ آپ کو رکھا، آپ کی تائید اور نصرت برابر کرتا رہا، آپ کے دین کو دنیا کے تمام دینوں پر غالب کر دیا، آپ کے مخالفین کے بلند بانگ ارادوں کو پست کر دیا، مشرق سے مغرب تک آپ کا کلمہ پھیلا دیا، اسی کا بیان ان دونوں آیتوں میں ہے۔ اللہ تعالیٰ آپ پر قیامت تک بےشمار درود و سلام بھیجتا رہے۔ آمین۔

صفحہ نمبر4752