سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
17:22
لا تجعل مع الله الاها اخر فتقعد مذموما مخذولا ٢٢
لَّا تَجْعَلْ مَعَ ٱللَّهِ إِلَـٰهًا ءَاخَرَ فَتَقْعُدَ مَذْمُومًۭا مَّخْذُولًۭا ٢٢
لَا
تَجْعَلْ
مَعَ
اللّٰهِ
اِلٰهًا
اٰخَرَ
فَتَقْعُدَ
مَذْمُوْمًا
مَّخْذُوْلًا
۟۠
اللہ کے ساتھ کسی اور کو معبود نہ بناؤ کہ پھر بیٹھے رہ جاؤ گے مذموم و بےسہارا ہو کر
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
فاقہ اور انسان ٭٭

یہ خطاب ہر ایک مکلف سے ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تمام امت کو حق تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے کہ اپنے رب کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرو۔ اگر ایسا کرو گے تو ذلیل ہو جاؤ گے اللہ کی مدد ہٹ جائے گی۔ جس کی عبادت کرو گے اسی کے سپرد کر دئے جاؤ گے اور یہ ظاہر ہے کہ اللہ کے سوا کوئی نفع نقصان کا مالک نہیں وہ واحد لا شریک ہے۔

مسند احمد میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں جسے فاقہ پہنچے اور وہ لوگوں سے اسے بند کروانا چاہے اس کا فاقہ بند نہ ہو گا اور جو اللہ سے اس کی بابت دعا کرے اللہ اس کے پاس تونگری بھیج دے گا یا تو جلدی یا دیر سے۔ [سنن ابوداود:1645:قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏ یہ حدیث ابوداؤد و طیالسی میں ہے۔ ترمذی رحمہ اللہ اسے حسن صحیح غریب بتلاتے ہیں۔

صفحہ نمبر4672