سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحجرات 49:9

49:9
وان طايفتان من المومنين اقتتلوا فاصلحوا بينهما فان بغت احداهما على الاخرى فقاتلوا التي تبغي حتى تفيء الى امر الله فان فاءت فاصلحوا بينهما بالعدل واقسطوا ان الله يحب المقسطين ٩
وَإِن طَآئِفَتَانِ مِنَ ٱلْمُؤْمِنِينَ ٱقْتَتَلُوا۟ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَهُمَا ۖ فَإِنۢ بَغَتْ إِحْدَىٰهُمَا عَلَى ٱلْأُخْرَىٰ فَقَـٰتِلُوا۟ ٱلَّتِى تَبْغِى حَتَّىٰ تَفِىٓءَ إِلَىٰٓ أَمْرِ ٱللَّهِ ۚ فَإِن فَآءَتْ فَأَصْلِحُوا۟ بَيْنَهُمَا بِٱلْعَدْلِ وَأَقْسِطُوٓا۟ ۖ إِنَّ ٱللَّهَ يُحِبُّ ٱلْمُقْسِطِينَ ٩
وَاِنْ
طَآىِٕفَتٰنِ
مِنَ
الْمُؤْمِنِیْنَ
اقْتَتَلُوْا
فَاَصْلِحُوْا
بَیْنَهُمَا ۚ
فَاِنْ
بَغَتْ
اِحْدٰىهُمَا
عَلَی
الْاُخْرٰی
فَقَاتِلُوا
الَّتِیْ
تَبْغِیْ
حَتّٰی
تَفِیْٓءَ
اِلٰۤی
اَمْرِ
اللّٰهِ ۚ
فَاِنْ
فَآءَتْ
فَاَصْلِحُوْا
بَیْنَهُمَا
بِالْعَدْلِ
وَاَقْسِطُوْا ؕ
اِنَّ
اللّٰهَ
یُحِبُّ
الْمُقْسِطِیْنَ
۟
اور اگر اہل ِایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان کے درمیان صلح کرا دیا کرو۔ پھر اگر ان میں سے ایک فریق دوسرے پر زیادتی کر رہا ہو تو تم جنگ کرو اس کے ساتھ جو زیادتی کر رہا ہے یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے اللہ کے حکم کی طرف } پھر اگر وہ لوٹ آئے تو ان دونوں کے درمیان صلح کرا دو عدل کے ساتھ اور دیکھو ! انصاف کرنا۔ بیشک اللہ انصاف کرنے والوں کو محبوب رکھتا ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 49:9 سے 49:11 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ہر آدمی کے اندر پیدائشی طور پر بڑا بننے کا جذبہ چھپا ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ایک شخص کو دوسرے شخص کی کوئی بات مل جائے تو وہ اس کو خوب نمایاں کرتا ہے تاکہ اس طرح اپنے کو بڑا اور دوسرے کو چھوٹا ثابت کرے۔ وہ دوسرے کا مذاق اڑاتا ہے، وہ دوسرے پر عیب لگاتا ہے، وہ دوسرے کو برے نام سے یاد کرتا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے اپنے بڑائی کے جذبہ کی تسکین حاصل کرے۔

مگر اچھا اور برا ہونے کا معیار وہ نہیں ہے جو آدمی بطور خود مقرر کرے۔ اچھا در اصل وہ ہے جو خدا کی نظر میں اچھا ہو اور برا وہ ہے جو خدا کی نظر میں برا ٹھہرے۔ اگر آدمی کے اندر فی الواقع اس کا احساس پیدا ہوجائے تو اس سے بڑائی کا جذبہ چھن جائے گا۔ دوسرے کا مذاق اڑانا، دوسرے کو طعنہ دینا، دوسرے پر عیب لگانا، دوسرے کو برے لقب سے یاد کرنا، سب اس کو بے معنی معلوم ہونے لگیں گے۔ کیونکہ وہ جانے گا کہ لوگوں کے درجہ و مرتبہ کا اصل فیصلہ خدا کے یہاں ہونے والا ہے۔ پھر اگر آج میں کسی کو حقیر سمجھوں اور آخرت کی حقیقی دنیا میں وہ باعزت قرار پائے تو میرا اس کو حقیر سمجھنا کس قدر بے معنی ہوگا۔