سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: البينة 98:6

98:6
ان الذين كفروا من اهل الكتاب والمشركين في نار جهنم خالدين فيها اولايك هم شر البرية ٦
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِنْ أَهْلِ ٱلْكِتَـٰبِ وَٱلْمُشْرِكِينَ فِى نَارِ جَهَنَّمَ خَـٰلِدِينَ فِيهَآ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ هُمْ شَرُّ ٱلْبَرِيَّةِ ٦
اِنَّ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
مِنْ
اَهْلِ
الْكِتٰبِ
وَالْمُشْرِكِیْنَ
فِیْ
نَارِ
جَهَنَّمَ
خٰلِدِیْنَ
فِیْهَا ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
هُمْ
شَرُّ
الْبَرِیَّةِ
۟ؕ
بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر کی روش اختیار کی خواہ وہ اہل کتاب میں سے تھے خواہ مشرکین میں سے وہ ہوں گے جہنم کی آگ میں اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہی لوگ بدترین خلائق ہیں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 98:1 سے 98:8 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

عرب کے مشرکین اور اہل کتاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہتے تھے کہ آپ کوئی معجزہ دکھائیں۔ یا فرشتہ آسمان سے آ کر ہم سے کلام کرے تب ہم آپ کی رسالت مانیں گے۔ مگر اس قسم کا مطالبہ کرنے والے ہمیشہ غیر سنجیدہ ہوتے ہیں۔ چنانچہ پچھلے لوگوں نے اس طرح کے مطالبے کیے، مگر مطالبہ پورا ہونے کے باوجود وہ مومن نہ بن سکے۔

خدا کا دینِ قیم یہ ہے کہ آدمی ایک اللہ کی عبادت کرے۔ وہ دل سے اس کا چاہنے والا بن جائے۔ وہ نماز قائم کرے اور زکوۃ ادا کرے۔ یہی خدا کی طرف سے آنے والا اصل دین ہے۔ سب سے اچھے لوگ وہ ہیں جو اس دینِ قیم کو اختیار کریں۔ اور سب سے برے لوگ وہ ہیں جو اس دین قیم کو اختیار نہ کریں یا اس کے سوا کوئی اور دین وضع کریں اور اس خود ساختہ دین کو دین قیم کا نام دے دیں۔