سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
7:90
وقال الملا الذين كفروا من قومه لين اتبعتم شعيبا انكم اذا لخاسرون ٩٠
وَقَالَ ٱلْمَلَأُ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ مِن قَوْمِهِۦ لَئِنِ ٱتَّبَعْتُمْ شُعَيْبًا إِنَّكُمْ إِذًۭا لَّخَـٰسِرُونَ ٩٠
وَقَالَ
الْمَلَاُ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
مِنْ
قَوْمِهٖ
لَىِٕنِ
اتَّبَعْتُمْ
شُعَیْبًا
اِنَّكُمْ
اِذًا
لَّخٰسِرُوْنَ
۟
اور کہا اس ؑ کی قوم کے ان سرداروں نے جنہوں نے کفر کیا تھا کہ اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی کی تو تم خسارے والے ہوجاؤ گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 7:89 سے 7:92 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 89 قَدِ افْتَرَیْنَا عَلَی اللّٰہِ کَذِبًا اِنْ عُدْنَا فِیْ مِلَّتِکُمْ بَعْدَ اِذْ نَجّٰٹنَا اللّٰہُ مِنْہَا ط حضرت شعیب علیہ السلام کا فرمانا تھا کہ اگر ہم دوبارہ تمہارے طور طریقوں پر واپس آجائیں تو اس کا مطلب یہ ہوگا کہ میرا نبوت کا دعویٰ ہی غلط تھا اور میں یہ دعویٰ کر کے گویا اللہ پر افترا کر رہا تھا۔ لیکن چونکہ میرا یہ دعویٰ سچا ہے اور میں واقعتا اللہ کا فرستادہ ہوں لہٰذا اب میرے اور میرے ساتھیوں کے لیے تمہاری ملت میں واپس آنا ممکن نہیں۔وَمَا یَکُوْنُ لَنَآ اَنْ نَّعُوْدَ فِیْہَآ اِلآَّ اَنْ یَّشَآء اللّٰہُ رَبُّنَا ط یہ ایک بندۂ مومن کی سوچ اور اس کے طرز عمل کی عکاسی ہے۔ وہ نہ اپنے فکرو فلسفہ پر بھروسہ کرتا ہے اور نہ اپنی عقل و استقامت کا سہارا لیتا ہے ‘ بلکہ صرف اور صرف اللہ کی توفیق اور تیسیر پر توکل کرتا ہے۔ یہی وہ فلسفہ تھا جس کے مطابق حضرت شعیب علیہ السلام نے اس طرح فرمایا ‘ حالانکہ ان کے واپس پلٹنے کا کوئی امکان نہیں تھا۔وَسِعَ رَبُّنَا کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًاط عَلَی اللّٰہِ تَوَکَّلْنَا ط اور ہمارے رب نے تو ہر شے کے علم کا احاطہ کیا ہوا ہے ‘ ہم نے اللہ ہی پر توکل کیا ہے۔