سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأعراف 7:160

7:160
وقطعناهم اثنتي عشرة اسباطا امما واوحينا الى موسى اذ استسقاه قومه ان اضرب بعصاك الحجر فانبجست منه اثنتا عشرة عينا قد علم كل اناس مشربهم وظللنا عليهم الغمام وانزلنا عليهم المن والسلوى كلوا من طيبات ما رزقناكم وما ظلمونا ولاكن كانوا انفسهم يظلمون ١٦٠
وَقَطَّعْنَـٰهُمُ ٱثْنَتَىْ عَشْرَةَ أَسْبَاطًا أُمَمًۭا ۚ وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰ مُوسَىٰٓ إِذِ ٱسْتَسْقَىٰهُ قَوْمُهُۥٓ أَنِ ٱضْرِب بِّعَصَاكَ ٱلْحَجَرَ ۖ فَٱنۢبَجَسَتْ مِنْهُ ٱثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًۭا ۖ قَدْ عَلِمَ كُلُّ أُنَاسٍۢ مَّشْرَبَهُمْ ۚ وَظَلَّلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْغَمَـٰمَ وَأَنزَلْنَا عَلَيْهِمُ ٱلْمَنَّ وَٱلسَّلْوَىٰ ۖ كُلُوا۟ مِن طَيِّبَـٰتِ مَا رَزَقْنَـٰكُمْ ۚ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَـٰكِن كَانُوٓا۟ أَنفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ١٦٠
وَقَطَّعْنٰهُمُ
اثْنَتَیْ
عَشْرَةَ
اَسْبَاطًا
اُمَمًا ؕ
وَاَوْحَیْنَاۤ
اِلٰی
مُوْسٰۤی
اِذِ
اسْتَسْقٰىهُ
قَوْمُهٗۤ
اَنِ
اضْرِبْ
بِّعَصَاكَ
الْحَجَرَ ۚ
فَانْۢبَجَسَتْ
مِنْهُ
اثْنَتَا
عَشْرَةَ
عَیْنًا ؕ
قَدْ
عَلِمَ
كُلُّ
اُنَاسٍ
مَّشْرَبَهُمْ ؕ
وَظَلَّلْنَا
عَلَیْهِمُ
الْغَمَامَ
وَاَنْزَلْنَا
عَلَیْهِمُ
الْمَنَّ
وَالسَّلْوٰی ؕ
كُلُوْا
مِنْ
طَیِّبٰتِ
مَا
رَزَقْنٰكُمْ ؕ
وَمَا
ظَلَمُوْنَا
وَلٰكِنْ
كَانُوْۤا
اَنْفُسَهُمْ
یَظْلِمُوْنَ
۟
) اور ہم نے ان کو علیحدہ علیحدہ کردیا بارہ قبیلوں کی جماعتوں میں اور ہم نے وحی کی موسیٰ ؑ کی طرف جب پانی طلب کیا آپ ؑ سے آپ ؑ کی قوم نے کہ اپنی لاٹھی سے چٹان پر ضرب لگائیے پس اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے تو ہر قبیلے نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو اور ہم نے ان کے اوپر بادل کا سائبان بنائے رکھا اور اتارا ہم نے ان پر من اور سلویٰ (اور ان سے کہا کہ) کھاؤ ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تمہیں رزق میں دی ہیں اور انہوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ خود اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

God took the Israelites from the polytheistic atmosphere of Egypt and settled them in the desert of Sinai. Here they were organised and divided into twelve groups. Each group had a leader and all were under the charge of Moses. Then, the Children of Israel were specially provided with all the necessities of life. Water was provided for them from mountain springs. For their food, ‘manna and quails’ were sent down and these were readily available to them right in front of their tents. For their regular settlement one entire city, Ariho, (in the Jordan valley) was given to them. God then advised them that He had arranged for all their necessities and that they should therefore desist from being greedy for the pleasures of the world and the flesh and should not rush towards unholy things; instead, they should adopt the way of contentment and gratefulness towards God.