سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنعام 6:77

6:77
فلما راى القمر بازغا قال هاذا ربي فلما افل قال لين لم يهدني ربي لاكونن من القوم الضالين ٧٧
فَلَمَّا رَءَا ٱلْقَمَرَ بَازِغًۭا قَالَ هَـٰذَا رَبِّى ۖ فَلَمَّآ أَفَلَ قَالَ لَئِن لَّمْ يَهْدِنِى رَبِّى لَأَكُونَنَّ مِنَ ٱلْقَوْمِ ٱلضَّآلِّينَ ٧٧
فَلَمَّا
رَاَ
الْقَمَرَ
بَازِغًا
قَالَ
هٰذَا
رَبِّیْ ۚ
فَلَمَّاۤ
اَفَلَ
قَالَ
لَىِٕنْ
لَّمْ
یَهْدِنِیْ
رَبِّیْ
لَاَكُوْنَنَّ
مِنَ
الْقَوْمِ
الضَّآلِّیْنَ
۟
پھر جب انہوں نے دیکھا چاند چمکتا ہوا تو کہا یہ ہے میرا ربّ ! پھر جب وہ بھی غائب ہوگیا تو انہوں نے کہا اگر میرے رب نے مجھے ہدایت نہ دی تو میں گمراہوں میں سے ہوجاؤں گا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 6:77 سے 6:79 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت 77 فَلَمَّا رَاَالْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیْج فَلَمَّآ اَفَلَ قَالَ لَءِنْ لَّمْ یَہْدِنِیْ رَبِّیْ لَاَکُوْنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیْنَ۔ ۔گویا یہ وہ الفاظ ہیں جن سے متبادر ہوتا ہے کہ شاید ابھی آپ علیہ السلام کا اپنا ذہنی اور فکری ارتقاء ہو رہا ہے۔ لیکن ان دونوں پہلوؤں پر غور و فکر کے بعد جو رائے بنتی ہے وہ یہی ہے کہ آپ علیہ السلام نے اپنی قوم پر حجت قائم کرنے کے لیے یہ تدریجی انداز اختیار کیا تھا۔