سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر بیان القرآن الأنعام کی تفسیر، آیت 67

6:67
لكل نبا مستقر وسوف تعلمون ٦٧
لِّكُلِّ نَبَإٍۢ مُّسْتَقَرٌّۭ ۚ وَسَوْفَ تَعْلَمُونَ ٦٧
لِكُلِّ
نَبَاٍ
مُّسْتَقَرٌّ ؗ
وَّسَوْفَ
تَعْلَمُوْنَ
۟
ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہو جائے گا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 67 لِکُلِّ نَبَاٍ مُّسْتَقَرٌّز وَّسَوْفَ تَعْلَمُوْنَ۔ ۔جیسا کہ سورة الانبیاء میں فرمایا گیا : وَاِنْ اَدْرِیْٓ اَقَرِیْبٌ اَمْ بَعِیْدٌ مَّا تُوْعَدُوْنَ میں یہ تو نہیں جانتا کہ جس عذاب کی تمہیں دھمکی دی جا رہی ہے وہ قریب آچکا ہے یا دور ہے۔ البتہ یہ ضرورجانتا ہوں کہ اگر تمہاری روش یہی رہی تو یہ عذاب تم پر ضرورآ کر رہے گا۔اب وہ آیت آرہی ہے جس کا حوالہ سورة النساء کی آیت 140 میں آیا تھا کہ اللہ تعالیٰ تم پر کتاب میں یہ بات نازل کرچکا ہے کہ جب تم سنو کہ اللہ کی آیات کے ساتھ کفر کیا جا رہا ہے اور ان کا مذاق اڑایا جا رہا ہے تو ان کے پاس مت بیٹھو۔۔ ایمان کا کم از کم تقاضا ہے کہ ایسی محفل سے احتجاج کے طور پر واک آؤٹ تو ضرور کیا جائے۔