سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأحزاب 33:51

33:51
۞ ترجي من تشاء منهن وتووي اليك من تشاء ومن ابتغيت ممن عزلت فلا جناح عليك ذالك ادنى ان تقر اعينهن ولا يحزن ويرضين بما اتيتهن كلهن والله يعلم ما في قلوبكم وكان الله عليما حليما ٥١
۞ تُرْجِى مَن تَشَآءُ مِنْهُنَّ وَتُـْٔوِىٓ إِلَيْكَ مَن تَشَآءُ ۖ وَمَنِ ٱبْتَغَيْتَ مِمَّنْ عَزَلْتَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْكَ ۚ ذَٰلِكَ أَدْنَىٰٓ أَن تَقَرَّ أَعْيُنُهُنَّ وَلَا يَحْزَنَّ وَيَرْضَيْنَ بِمَآ ءَاتَيْتَهُنَّ كُلُّهُنَّ ۚ وَٱللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِى قُلُوبِكُمْ ۚ وَكَانَ ٱللَّهُ عَلِيمًا حَلِيمًۭا ٥١
تُرْجِیْ
مَنْ
تَشَآءُ
مِنْهُنَّ
وَتُـْٔوِیْۤ
اِلَیْكَ
مَنْ
تَشَآءُ ؕ
وَمَنِ
ابْتَغَیْتَ
مِمَّنْ
عَزَلْتَ
فَلَا
جُنَاحَ
عَلَیْكَ ؕ
ذٰلِكَ
اَدْنٰۤی
اَنْ
تَقَرَّ
اَعْیُنُهُنَّ
وَلَا
یَحْزَنَّ
وَیَرْضَیْنَ
بِمَاۤ
اٰتَیْتَهُنَّ
كُلُّهُنَّ ؕ
وَاللّٰهُ
یَعْلَمُ
مَا
فِیْ
قُلُوْبِكُمْ ؕ
وَكَانَ
اللّٰهُ
عَلِیْمًا
حَلِیْمًا
۟
آپ ﷺ ان میں سے جس کو چاہیں پیچھے ہٹائیں اور جس کو چاہیں اپنے قریب جگہ دیں۔ اور جن کو آپ ﷺ نے دور کردیا تھا ان میں سے کسی کو (دوبارہ قریب کرنا) چاہیں تو بھی آپ ﷺ پر کوئی حرج نہیں یہ زیادہ قریب ہے اس سے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں اور وہ رنجیدہ نہ ہوں اور وہ سب کی سب راضی رہیں اس پر جو بھی آپ انہیں دیں۔ } اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ تمہارے دلوں میں ہے۔ اور اللہ ہرچیز کا علم رکھنے والا بہت بردبار ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 33:51 سے 33:52 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

جہاں کئی خواتین کا مسئلہ ہو وہاں شکایت کا امکان بڑھ جاتاہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کئی بیویاں تھیں اس بنا پر اندیشہ تھا کہ حقوقِ زوجیت کے بارے میں خواتین کو عدم مساوات کی شکایت ہو اور اس کا نتیجہ یہ نکلے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یکسوئی کے ساتھ دینی مہم کی ادائيگی نہ فرماسکیں۔ اس ليے اعلان فرمایا کہ پیغمبر کا معاملہ خصوصی معاملہ ہے۔وہ عام مسلمانوں کی طرح حقوق زوجیت میں مساوات کے پابند نہیں ہیں۔ حقوقِ زوجیت کی رعایت اور حقوقِ اسلام کی رعایت میں ٹکراؤ ہو تو پیغمبر کےلیے جائز ہوگا کہ وہ حقوقِ اسلام کی رعایت کو ترجیح دیں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو عام ضابطہ سے مستثنیٰ کرنے کا مقصد یہ تھا کہ خواتین کے اندر شکایتی ذہن کی پیدائش کور وکا جاسکے، ورنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اختیار کو عملاً بہت ہی کم استعمال فرمایا۔