سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأحقاف 46:27

46:27
ولقد اهلكنا ما حولكم من القرى وصرفنا الايات لعلهم يرجعون ٢٧
وَلَقَدْ أَهْلَكْنَا مَا حَوْلَكُم مِّنَ ٱلْقُرَىٰ وَصَرَّفْنَا ٱلْـَٔايَـٰتِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ٢٧
وَلَقَدْ
اَهْلَكْنَا
مَا
حَوْلَكُمْ
مِّنَ
الْقُرٰی
وَصَرَّفْنَا
الْاٰیٰتِ
لَعَلَّهُمْ
یَرْجِعُوْنَ
۟
اور ہم نے ہلاک کیا ہے بہت سی ایسی بستیوں کو جو تمہارے اردگرد آباد تھیں اور ہم نے پھیر پھیر کر ان کو اپنی آیات سنائیں تاکہ وہ رجوع کریں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 27 { وَلَقَدْ اَہْلَکْنَا مَا حَوْلَکُمْ مِّنَ الْقُرٰی } ”اور ہم نے ہلاک کیا ہے بہت سی ایسی بستیوں کو جو تمہارے اردگرد آباد تھیں“ وہ تمام اقوام جن کے انجام کا ذکر قرآن میں تکرار کے ساتھ آیا ہے جزیرہ نمائے عرب کے اردگرد کے علاقوں میں آباد تھیں۔ احقاف یعنی قوم عاد کا علاقہ مکہ سے جنوب مشرق میں واقع تھا۔ قوم ثمود کا علاقہ مدائن صالح مکہ سے شمال میں تھا اور شمال ہی کے رخ میں حضرت شعیب علیہ السلام کی قوم کا علاقہ مدین تھا۔ جبکہ بحیرئہ مردار Dead Sea کے ساحل پر حضرت لوط علیہ السلام کی قوم آباد تھی۔ اس قوم کے شہروں کے کھنڈرات بھی بحیرہ مردار کے اندر سے دریافت ہوچکے ہیں۔ { وَصَرَّفْنَا الْاٰیٰتِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُوْنَ } ”اور ہم نے پھیر پھیر کر ان کو اپنی آیات سنائیں تاکہ وہ رجوع کریں۔“