سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأحقاف 46:13

46:13
ان الذين قالوا ربنا الله ثم استقاموا فلا خوف عليهم ولا هم يحزنون ١٣
إِنَّ ٱلَّذِينَ قَالُوا۟ رَبُّنَا ٱللَّهُ ثُمَّ ٱسْتَقَـٰمُوا۟ فَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ ١٣
اِنَّ
الَّذِیْنَ
قَالُوْا
رَبُّنَا
اللّٰهُ
ثُمَّ
اسْتَقَامُوْا
فَلَا
خَوْفٌ
عَلَیْهِمْ
وَلَا
هُمْ
یَحْزَنُوْنَ
۟ۚ
بیشک جن لوگوں نے اقرار کیا کہ ہمارا رب اللہ ہے پھر اس پر جم گئے تو ان پر نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ وہ حزن سے دوچار ہوں گے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 46:12 سے 46:14 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

قرآن كي صداقت كي ايك دليل يه هے كه پچھلي آسماني كتابيں اس كي پيشين گوئي كرتي رهي هيں۔ يه پيشين گوئياں آج بھي انجيل اور تورات ميں موجود هيں۔ اس طرح قرآن اپني سابق آسماني پيشين گوئيوں كا مصداق بن كر آيا هے۔ وه ان كي پيشگي اطلاع كو سچ كردكھاتا هے۔ يه ايك واضح قرينه هے جو ثابت كرتا هے كه قرآن، واقعةً ايك خدائي كتاب هے۔ ورنه سيكڑوں اور هزاروں سال پهلے اس كي پيشگي خبر دينا كيسے ممكن هوتا۔

’’قالُوا رَبُّنَا اللَّهُ ثُمَّ اسْتَقامُوا‘‘كے سلسله ميں حضرت عبد الله بن عباس سے مروي هے كه اس سے مراد اس كے فرائض كي ادائيگي پر قائم رهنا هے (ثُمَّ اسْتَقامُوا عَلَى أَدَاءِ فَرَائِضِهِ) تفسیر الطبری، جلد 20، صفحہ 425 ۔

ايمان ايك مقدس عهد هے۔ زندگي ميں بار بار ايسے مواقع آتے هيں كه ايك روش آدمي كے عهدِ ايمان كے مطابق هوتي هے اور ايك روش اس كے عهد ايمان كے غير مطابق۔ ايسے مواقع پر جس شخص نے اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل كيا اس نےاستقامت دكھائي اور جو شخص اپنے عهد ايمان كے مطابق عمل نه كرسكا وه استقامت دكھانے ميں ناكام رها۔

استقامت کا ثبوت نہ دینے والے لوگ ظالم لوگ ہیں ان کا دعوائے ایمان انھیں کچھ فائدہ نہ دے گا اور جن لوگوں نے استقامت کا ثبوت دیا وہی وہ لوگ ہیں جو جنت کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔