سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
33:13
واذ قالت طايفة منهم يا اهل يثرب لا مقام لكم فارجعوا ويستاذن فريق منهم النبي يقولون ان بيوتنا عورة وما هي بعورة ان يريدون الا فرارا ١٣
وَإِذْ قَالَت طَّآئِفَةٌۭ مِّنْهُمْ يَـٰٓأَهْلَ يَثْرِبَ لَا مُقَامَ لَكُمْ فَٱرْجِعُوا۟ ۚ وَيَسْتَـْٔذِنُ فَرِيقٌۭ مِّنْهُمُ ٱلنَّبِىَّ يَقُولُونَ إِنَّ بُيُوتَنَا عَوْرَةٌۭ وَمَا هِىَ بِعَوْرَةٍ ۖ إِن يُرِيدُونَ إِلَّا فِرَارًۭا ١٣
وَاِذْ
قَالَتْ
طَّآىِٕفَةٌ
مِّنْهُمْ
یٰۤاَهْلَ
یَثْرِبَ
لَا
مُقَامَ
لَكُمْ
فَارْجِعُوْا ۚ
وَیَسْتَاْذِنُ
فَرِیْقٌ
مِّنْهُمُ
النَّبِیَّ
یَقُوْلُوْنَ
اِنَّ
بُیُوْتَنَا
عَوْرَةٌ ۛؕ
وَمَا
هِیَ
بِعَوْرَةٍ ۛۚ
اِنْ
یُّرِیْدُوْنَ
اِلَّا
فِرَارًا
۟
اور جب ان میں سے ایک گروہ نے کہا کہ اے اہل ِیثرب ! اب تمہارا کوئی ٹھکانہ نہیں چناچہ تم لوٹ جائو اور ان میں سے ایک گروہ نبی ﷺ سے اجازت طلب کر رہا تھا وہ کہہ رہے تھے کہ ہمارے گھر غیر محفوظ ہیں۔ حالانکہ وہ غیر محفوظ نہیں تھے۔ } حقیقت میں وہ کچھ نہیں چاہتے تھے سوائے فرار کے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
قرأت کیا ہیں؟مزید جاننے کے لیے یہاں کلک کریں
جنکچر
مقام
قارئین
Abū Jaʿfar
Madinah
Ibn ʿĀmir
Damascus
Nāfiʿ
Madinah
Ḥamzah
Kufah
Ibn Kathīr
Makkah
Khalaf
Kufah
Abū ʿAmr
Basrah
al-Kisāʾī
Kufah
Yaʿqūb
Basrah
ʿĀṣim
Kufah
ریڈنگز
مُقَامَ
muqāma
مَقَامَ
maqāma
“be able to withstand”

وضاحت

These readings convey the same meaning with place/verbal nouns based on form IV and form I verbs, respectively, and are identical in meaning [Makki].

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran