سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
12:54
وقال الملك ايتوني به استخلصه لنفسي فلما كلمه قال انك اليوم لدينا مكين امين ٥٤
وَقَالَ ٱلْمَلِكُ ٱئْتُونِى بِهِۦٓ أَسْتَخْلِصْهُ لِنَفْسِى ۖ فَلَمَّا كَلَّمَهُۥ قَالَ إِنَّكَ ٱلْيَوْمَ لَدَيْنَا مَكِينٌ أَمِينٌۭ ٥٤
وَقَالَ
الْمَلِكُ
ائْتُوْنِیْ
بِهٖۤ
اَسْتَخْلِصْهُ
لِنَفْسِیْ ۚ
فَلَمَّا
كَلَّمَهٗ
قَالَ
اِنَّكَ
الْیَوْمَ
لَدَیْنَا
مَكِیْنٌ
اَمِیْنٌ
۟
اور بادشاہ نے (اب فیصلہ کن انداز میں) کہا کہ اس کو میرے پاس لے آؤ میں اسے اپنا مصاحب خاص بناؤں گا تو جب بادشاہ نے آپ سے بات چیت کی تو کہا کہ آج کے دن سے آپ ہمارے نزدیک بڑے با عزت اور معتبر انسان ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 12:54 سے 12:55 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں
باب

جب بادشاہ کے سامنے یوسف علیہ السلام کی بےگناہی کھل گئی تو خوش ہو کر کہا کہ انہیں میرے پاس بلا لاؤ کہ میں انہیں اپنے خاص مشیروں میں کر لوں۔ چانچہ آپ تشریف لائے۔ جب وہ آپ سے ملا، آپ علیہ السلام کی صورت دیکھی۔ آپ علیہ السلام کی باتیں سنیں، آپ علیہ السلام کے اخلاق دیکھے تو دل سے گرویدہ ہو گیا اور بےساختہ اس کی زبان سے نکل گیا کہ آج سے آپ ہمارے ہاں معزز اور معتبر ہیں۔ اس وقت آپ علیہ السلام نے ایک خدمت اپنے لیے پسند فرمائی اور اس کی اہلیت ظاہر کی۔ انسان کو یہ جائز بھی ہے کہ جب وہ انجان لوگوں میں ہو تو اپنی قابلیت بوقت ضرورت بیان کر دے۔ اس خواب کی بنا پر جس کی تعبیر آپ نے دی تھی۔ آپ نے یہی آرزو کی کہ زمین کی پیداوار غلہ وغیرہ جو جمع کیا جاتا ہے اس پر مجھے مقرر کیا جائے تاکہ میں محافظت کروں نیز اپنے علم کے مطابق عمل کر سکوں تاکہ رعایا کو قحط سالی کی مصیبت کے وقت قدرے عافیت مل سکے۔ بادشاہ کے دل پر تو آپ کی امانت داری، سچائی، سلیقہ مندی اور کامل علم کا سکہ بیٹھ چکا تھا اسی وقت اس نے اس درخواست کو منظور کر لیا۔

صفحہ نمبر4025