سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الانسان 76:29

76:29
ان هاذه تذكرة فمن شاء اتخذ الى ربه سبيلا ٢٩
إِنَّ هَـٰذِهِۦ تَذْكِرَةٌۭ ۖ فَمَن شَآءَ ٱتَّخَذَ إِلَىٰ رَبِّهِۦ سَبِيلًۭا ٢٩
اِنَّ
هٰذِهٖ
تَذْكِرَةٌ ۚ
فَمَنْ
شَآءَ
اتَّخَذَ
اِلٰی
رَبِّهٖ
سَبِیْلًا
۟
یقینا یہ تو ایک یاد دہانی ہے۔ تو جو چاہے اپنے ربّ کی طرف راستہ اختیار کرلے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

ان ھذہ .................... سبیلا

اور اس کے بعد یہ تصریح بھی کردی جاتی ہے کہ اللہ کی مشیت بےقید ہے۔ اور ہر چیز اللہ کی مشیت کے مطابق ظہور پذیر ہوتی ہے۔ تاکہ لوگوں کی آخری توجہ اللہ کی طرف ہو۔ اور آخر کار سب لوگ اللہ کے سامنے سر تسلیم خم کردیں۔ انسان اپنی قوت پر مغرور ہونے کی بجائے اللہ کی قوت پر بھروسہ کرے۔ اور یہ عقیدہ رکھے کہ حقیقی قوت اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے یعنی پوری طرح اللہ کے آگے جھک جائے۔