سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأنعام 6:17

6:17
وان يمسسك الله بضر فلا كاشف له الا هو وان يمسسك بخير فهو على كل شيء قدير ١٧
وَإِن يَمْسَسْكَ ٱللَّهُ بِضُرٍّۢ فَلَا كَاشِفَ لَهُۥٓ إِلَّا هُوَ ۖ وَإِن يَمْسَسْكَ بِخَيْرٍۢ فَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَىْءٍۢ قَدِيرٌۭ ١٧
وَاِنْ
یَّمْسَسْكَ
اللّٰهُ
بِضُرٍّ
فَلَا
كَاشِفَ
لَهٗۤ
اِلَّا
هُوَ ؕ
وَاِنْ
یَّمْسَسْكَ
بِخَیْرٍ
فَهُوَ
عَلٰی
كُلِّ
شَیْءٍ
قَدِیْرٌ
۟
اور اگر تمہیں اللہ کی طرف سے پہنچا دی جائے کوئی تکلیف تو کوئی نہیں ہے اس کا دور کرنے والا سوائے اس کے اور اگر اس کی طرف سے کوئی خیر تمہیں پہنچا دی جائے تو یقیناً وہ ہرچیز پر قادر ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 6:17 سے 6:18 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

(آیت) ” وَإِن یَمْسَسْکَ اللّہُ بِضُرٍّ فَلاَ کَاشِفَ لَہُ إِلاَّ ہُوَ وَإِن یَمْسَسْکَ بِخَیْْرٍ فَہُوَ عَلَی کُلِّ شَیْْء ٍ قَدُیْرٌ(17) وَہُوَ الْقَاہِرُ فَوْقَ عِبَادِہِ وَہُوَ الْحَکِیْمُ الْخَبِیْرُ (18)

” اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچا سکے ‘ اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے ۔ وہ اپنے بندوں پر کامل اختیار رکھتا ہے اور وہ دانا اور باخبر ہے ۔ “

وہ نفس انسانی کے ہر خیال اور اس کے سینے کے ہر وسوسے کا پیچھا کرتا ہے ۔ وہ دلی خواہشات اور اندرونی اندیشوں سے بھی باخبر ہے ۔ وہ شکوک و شبہات کی تمام شکلوں کو جانتا ہے اور ان تمام باتوں کو نظریاتی روشنی سے حل کرتا ہے ۔ برہاں و دلیل سے انسانی تصور کو واضح کرتا ہے اور اپنی خدائی کی صحیح معرفت عطا کرتا ہے ۔ چونکہ یہ ایک اہم مسئلہ ہے اس لئے قرآن کریم دوسرے مقامات کی طرح یہاں بھی اس کی وضاحت کردیتا ہے ۔

اب یہ لہر اپنے عروج پر ہے اور اس سے نہایت ہی گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں ۔ بات شہادت ‘ ثبوت اور سرزنشن تک آپہنچتی ہے ۔ اب جدائی اور برات کا اعلان کردیا جاتا ہے کہ بس ہم تمہارے ساتھ شرکیہ امور میں شریک نہیں ہو سکتے ۔ نہایت ہی بلند آواز میں اور نہایت ہی رعب دار اور فیصلہ کن اعلان میں :