سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
50:9
ونزلنا من السماء ماء مباركا فانبتنا به جنات وحب الحصيد ٩
وَنَزَّلْنَا مِنَ ٱلسَّمَآءِ مَآءًۭ مُّبَـٰرَكًۭا فَأَنۢبَتْنَا بِهِۦ جَنَّـٰتٍۢ وَحَبَّ ٱلْحَصِيدِ ٩
وَنَزَّلۡنَا
مِنَ
السَّمَآءِ
مَآءً
مُّبٰـرَكًا
فَاَنۡۢبَـتۡـنَا
بِهٖ
جَنّٰتٍ
وَّحَبَّ
الۡحَصِيۡدِ ۙ‏
٩
اور ہم نے آسمان سے اتارا برکت والا پانی تو ہم نے اگایا اس کے ذریعے سے باغات کو اور ان فصلوں کو جو کٹ جاتی ہیں۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 50:8 سے 50:9 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اس بندے کے لئے جو (حق کی طرف ) رجوع کرنے والا ہو ”۔

یہ بصیرت عطا کرنے والی باتیں ہیں۔ بصارت دینے والی باتیں ہیں اور دلوں کو قبولیت حق کے لئے کھولنے والی باتیں ہیں۔ اس مطالعہ سے انسانی دل و دماغ اور انسانی روح اس کائنات کے ساتھ جڑ جاتی ہے اور اس حکمت ، تربیت اور کمال تخلیق کو پا لیتی ہے جو اس کے اندر موجود ہے اور پھر جن لوگوں کا دل اپنے معبود کی طرف مائل ہوتا ہے وہ اپنے رب کے کمالات کو دیکھ کر لوٹ جاتا ہے۔

یوں انسانی دل اور اس عظیم اور خوبصورت کائنات کے درمیان اتحادو اتصال پیدا ہوجاتا ہے۔ انسان کتاب کائنات کا مطالعہ کرتا ہے اور اس کائنات سے متعارف ہوتا ہے اور انسانی دل اور انسانی سوچ پر اس کا اثر ہوتا ہے۔ اور انسانی زندگی پر یہ تعلق اور رابطہ اثر انداز ہوتا ہے اور یہ وہ روابطہ ہے جو قرآن سائنس اور معرفت الٰہی کے درمیان پیدا کرتا ہے۔ یعنی اس معرفت کے درمیان جو انسان رکھتا ہے اور اس حقیقت کے درمیان جو سائنسی علم رکھتا ہے اور ہمارے دور میں علم کا جو سائنسی منہاج مروج ہے اس میں یہ حقیقت نہیں ہے۔ یہ رابطہ نہیں ہے۔ یوں اللہ نے انسانوں اور اس کائنات کے درمیان جس کے اندر وہ رہتے ہیں ایک تعلق پیدا کیا تھا اور جدید دور کے اہل علم اور سائنس دانوں نے یہ تعلق کاٹ دیا ہے۔ انسان اس کائنات کا حصہ ہے اور جب تک وہ اس کائنات کا ہمدم نہیں ہوگا اس وقت تک اس کی زندگی نہ مستحکم ہو سکتی ہے نہ مستقیم ۔ اور جب تک اس کے دل کی دھڑکن اور اس کائنات کی حرکت کے اندر ہم آہنگی نہ ہوگی ، وہ کامیاب نہیں ہو سکتا۔ ستاروں اور سیارو ، آسمانوں اور فضاؤں ، نباتات اور حیوانات اس کائنات اور اس کی وسعتوں کے اندر انسان جس قدر بھی نئی دریافت کرے۔ وہ دریافت دل سے ہم آہنگ ہو۔ اور انسان اس نئی دریافت کردہ دنیا کا دوست ہو اور اس طرح وہ اس نتیجے تک پہنچے کہ انسان اور اس کائنات کا آخری خالق اور سبب اللہ تعالیٰ ہے۔ جب تک علم ، دریافت اور معرفت کی آخری منزل ، خالق کی منزل تک نہ پہنچ سکے اسے سمجھاجائے کہ وہ علم ناقص ہے۔ ایسی ہر تحقیق اور ایسی ہر تحقیق کے ہر نتیجہ بانجھ ہے ، بےمقصد ہے اور انسان کے لئے غیر مفید ہے۔

یہ کائنات سچائی کی کھلی کتاب ہے جسے ہر زبان میں پڑھا جانا ہے اور ہر ذریعہ سے اس کا ادراک کیا جاتا ہے۔ اسے ایک خیمے اور جھونپڑی کا باشندہ بھی پڑھ سکتا ہے اور نہایت ہی تعلیم یافتہ اور محلات میں رہنے والا بھی پڑھ سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے قوت ادراک کے مطابق اسے پڑھتا ہے۔ ” ہر کسے از غن خود شد یاد من “ اسے اپنی صلاحیت کے مطابق اس کے اندر حق نظر آتا ہے۔ بشرطیکہ وہ اسے اس نیت سے پڑھ رہا ہو کہ وہ حق اور سچائی تک پہنچ جائے۔ یہ کتاب ہر حال میں قائم ہے اور ہر کسی کے سامنے کھلی ہے۔

تبصرۃ وذکری لکل عبد منیب (50 : 8) ” یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور نصیحت دینے والی ہر اس شخص کے لئے جو سچائی کا متلاشی ہو ”۔ لیکن جدید سائنسی علوم کو اس طرح مرتب کیا گیا ہے کہ ان سے یہ تبصرہ اور آنکھیں کھول دینے کی صلاحیت کو ختم کردیا گیا ہے ۔ انسان کے دل اور اس کی روح کا تعلق اس کائنات سے کاٹ دیا گیا ہے۔ کیونکہ یہ علم ان لوگوں کے ہاتھ میں ہے جن کے دل اندھے ہیں۔ اور ان کے سروں پر نام نہاد سائنسی انداز فکر سوار ہے۔ اور یہ سائنسی اندازیہ ہے کہ کائنات کا تعلق انسان کی روح سے کاٹ دیا جائے۔

لیکن کائنات کا ایمانی مطالعہ ان لوگوں کے نام نہاد سائنسی انداز میں بہرحال کوئی کمی نہیں کرتا بلکہ وہ اس پر یہ وظیفہ کرتا ہے کہ یہ کائناتی حقائق ایک دوسرے سے بھی مربوط ہیں اور پھر یہ حقائق ایک حقیقت کبریٰ سے بھی مربوط ہیں اور ان حقائق کو اس حقیقت کبریٰ سے مربوط کر کے پھر تمام حقائق کو انسانی ادراک اور انسانی شعور اور انسانی روح کے ساتھ یوں پیوست کرتا ہے کہ یہ انسان کو متاثر کریں۔ انسان کی زندگی کو متاثر کریں۔ یہ محض خشک معلومات ہی نہ ہوں جو ذہنوں میں دفن ہوں اور عملی زندگی میں ان کا کوئی مقصد نہ ہوگا بلکہ ان کو عملی زندگی پر ایمان کے راستے سے اثر انداز ہونا چاہئے اور ہماری تمام تحقیقات اور انکشافات کو ایمان کے راستے سے حقیقت کبریٰ سے جڑ کر انسان کی عملی زندگی پر اثر انداز ہونا چاہئے۔

اس طرح اس نکتے کی طرف توجہ مبذول کرانے کے بعد اب بحث اس کتاب کائنات کے اندر آگے بڑھتی ہے۔ پیش نظر یہی مضمون ہے کہ موت کے بعد حشر ونشر ہوگا اور حساب و کتاب ہوگا۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

ماہانہ ڈونر بنیں

ماہانہ عطیات قرآن ڈاٹ کام کو بہتر بنانے اور اس کے نظام کو جاری رکھنے میں ہماری مدد کرتے ہیں، تاکہ ہم فنڈ ریزنگ کے بجائے اثر انگیزی پر زیادہ توجہ دے سکیں۔ مزيد جانیے

ابھی عطیہ کریں
قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں