سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الحجرات 49:5

49:5
ولو انهم صبروا حتى تخرج اليهم لكان خيرا لهم والله غفور رحيم ٥
وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا۟ حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًۭا لَّهُمْ ۚ وَٱللَّهُ غَفُورٌۭ رَّحِيمٌۭ ٥
وَلَوْ
اَنَّهُمْ
صَبَرُوْا
حَتّٰی
تَخْرُجَ
اِلَیْهِمْ
لَكَانَ
خَیْرًا
لَّهُمْ ؕ
وَاللّٰهُ
غَفُوْرٌ
رَّحِیْمٌ
۟
اور اگر وہ صبر کرتے یہاں تک کہ آپ خود ان کے پاس نکل کر آجاتے تو یہ ان کے حق میں بہتر ہوتا۔ بہرحال اللہ بہت بخشنے والا بہت رحم کرنے والا ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 49:4 سے 49:5 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ان الذین ینادونک ۔۔۔۔۔۔۔ لا یعقلون (49 : 4) ولو انھم ۔۔۔۔۔۔۔ غفور رحیم (49 : 5) “ اے نبی ؐ جو لوگ تمہیں حجروں کے باہر سے پکارتے ہیں ان میں سے اکثر بےعقل ہیں۔ اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لئے بہتر تھا۔ اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے ”۔ اللہ نے ایسے لوگوں کے بارے میں فرمایا کہ ان میں سے اکثر عقلمند نہیں ہیں ۔ اور ان کی اس حرکت کو ان کے لئے مکروہ کردیا کیونکہ وہ اسلامی آداب کے خلاف تھی اور نبی ﷺ کی ذات اور آپ کے مقام کے ساتھ جس قدر احترام کا تعلق ہونا چاہئے تھا ، یہ اس کے خلاف تھا ۔ آپ مسلمانوں کے قائد اور مربی تھے اور خدا کے نبی تھے۔ اس لیے ان سے کہا گیا کہ ان کے لئے مناسب تھا کہ صبر کرتے اور انتظار کرتے تا آنکہ حضور ﷺ اپنے معمول کے مطابق باہر نکل آتے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کو توبہ و استغفار کرنے اور اللہ کی طرف رجوع کی ترغیب دی ۔

مسلمانوں نے ان آداب کو خوب سمجھا۔ انہوں نے رسول اللہ کی شخصیت سے آگے بڑھ کر ہر استاد اور ہر عالم دین کے ساتھ یہی سلوک روا رکھا۔ ایسی شخصیات کو انہوں نے گھروں کے اندر پریشان نہ کیا۔ اور ان کے نکلنے کا انتظار کیا۔ کبھی اساتذہ کے گھروں کے اندر گھسنے کی کوشش نہ کی۔ ایک اور مشہور راوی اور عالم ابو عبید کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ وہ کہتے تھے کہ میں نے کسی عالم کا دروازہ کبھی نہیں کھٹکھٹایا ۔ ہمیشہ انتظار کیا کہ وہ نکل آئیں۔