سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الفتح 48:12

48:12
بل ظننتم ان لن ينقلب الرسول والمومنون الى اهليهم ابدا وزين ذالك في قلوبكم وظننتم ظن السوء وكنتم قوما بورا ١٢
بَلْ ظَنَنتُمْ أَن لَّن يَنقَلِبَ ٱلرَّسُولُ وَٱلْمُؤْمِنُونَ إِلَىٰٓ أَهْلِيهِمْ أَبَدًۭا وَزُيِّنَ ذَٰلِكَ فِى قُلُوبِكُمْ وَظَنَنتُمْ ظَنَّ ٱلسَّوْءِ وَكُنتُمْ قَوْمًۢا بُورًۭا ١٢
بَلْ
ظَنَنْتُمْ
اَنْ
لَّنْ
یَّنْقَلِبَ
الرَّسُوْلُ
وَالْمُؤْمِنُوْنَ
اِلٰۤی
اَهْلِیْهِمْ
اَبَدًا
وَّزُیِّنَ
ذٰلِكَ
فِیْ
قُلُوْبِكُمْ
وَظَنَنْتُمْ
ظَنَّ
السَّوْءِ ۖۚ
وَكُنْتُمْ
قَوْمًا
بُوْرًا
۟
بلکہ تم لوگوں نے یہ گمان کیا کہ اب رسول اور اہل ِایمان اپنے گھر والوں کی طرف کبھی بھی لوٹ کر نہیں آئیں گے اور یہ بات تمہارے دلوں میں خوشنما بنا دی گئی اور تم نے بہت برا گمان کیا اور تم ہو ہی تباہ ہونے والے لوگ۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 48:11 سے 48:14 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

Related Considerations

Reference in this passage is to those Bedouin tribes who were invited by Allah's Messenger ﷺ to join the party of 1400 Muslims who were marching to Hudaibiyah but on one pretext or another, they requested to be excused. This was narrated in part [ 1] of the story of Hudaibiyah. According to some versions, some of those people later repented and became sincere Muslims.