سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: محمد 47:34

47:34
ان الذين كفروا وصدوا عن سبيل الله ثم ماتوا وهم كفار فلن يغفر الله لهم ٣٤
إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟ وَصَدُّوا۟ عَن سَبِيلِ ٱللَّهِ ثُمَّ مَاتُوا۟ وَهُمْ كُفَّارٌۭ فَلَن يَغْفِرَ ٱللَّهُ لَهُمْ ٣٤
اِنَّ
الَّذِیْنَ
كَفَرُوْا
وَصَدُّوْا
عَنْ
سَبِیْلِ
اللّٰهِ
ثُمَّ
مَاتُوْا
وَهُمْ
كُفَّارٌ
فَلَنْ
یَّغْفِرَ
اللّٰهُ
لَهُمْ
۟
یقینا وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اور وہ اللہ کے راستے سے رکے رہے (اور دوسروں کو بھی روکتے رہے) پھر وہ مرگئے اس حالت میں کہ کافر ہی رہے تو ایسے لوگوں کو اللہ ہرگز نہیں بخشے گا۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

اگلی آیت میں بتایا جاتا ہے کہ جو لوگ رسول اللہ ﷺ سے دشمنی کرتے ہیں اور آپ کی اطاعت سے دور ہوجاتے ہیں اور ایسے رویے پر اصرار کرتے ہیں اور اس دنیا سے کافر ہو کر مرجاتے ہیں ان کا انجام کیا ہوگا۔

ان الذین کفروا ۔۔۔۔۔ یغفر اللہ لھم (47 : 34) “ کفر کرنے والوں اور راہ خدا سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا ”۔

مغفرت کے لئے اس دنیا میں ہر کسی کو مہلت دے دی گئی ہے۔ اور توبہ کا دروازہ کافروں اور گناہگاروں پر اس وقت تک کھلا ہے جب تک سکرات موت شروع نہیں ہوجائے۔ جب روح حلقوم تک آن پہنچے تو اس وقت خالص آخری لمحات میں تو بہ کا دروازہ بند ہوتا ہے اور اس وقت موقعہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ختم ہوجاتا ہے۔