سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الأحقاف 46:32

46:32
ومن لا يجب داعي الله فليس بمعجز في الارض وليس له من دونه اولياء اولايك في ضلال مبين ٣٢
وَمَن لَّا يُجِبْ دَاعِىَ ٱللَّهِ فَلَيْسَ بِمُعْجِزٍۢ فِى ٱلْأَرْضِ وَلَيْسَ لَهُۥ مِن دُونِهِۦٓ أَوْلِيَآءُ ۚ أُو۟لَـٰٓئِكَ فِى ضَلَـٰلٍۢ مُّبِينٍ ٣٢
وَمَنْ
لَّا
یُجِبْ
دَاعِیَ
اللّٰهِ
فَلَیْسَ
بِمُعْجِزٍ
فِی
الْاَرْضِ
وَلَیْسَ
لَهٗ
مِنْ
دُوْنِهٖۤ
اَوْلِیَآءُ ؕ
اُولٰٓىِٕكَ
فِیْ
ضَلٰلٍ
مُّبِیْنٍ
۟
اور جو کوئی لبیک نہیں کہتا اللہ کی طرف پکارنے والے کی پکار پر تو وہ اللہ کو عاجز کرنے والا نہیں ہے زمین میں اور نہیں ہوں گے اس کے لیے اللہ کے مقابلے میں دوسرے مددگار۔ یہی لوگ کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 46:31 سے 46:34 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یغْفِرْ‌ لَكُم مِّن ذُنُوبِكُمْ (will forgive your sins for you,) The word 'min' used in the text gives the sense of 'some'. If it is taken in this sense here, it would mean that 'some sins' will be forgiven by embracing Islam. It will indicate that only sins relating to the rights of Allah would be forgiven but not the rights of people. But some exegetes have taken 'min' in this verse as an extra word that has no additional meaning in Arabic idioms. Given this interpretation, no explanation is required.