سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الزمر 39:75

39:75
وترى الملايكة حافين من حول العرش يسبحون بحمد ربهم وقضي بينهم بالحق وقيل الحمد لله رب العالمين ٧٥
وَتَرَى ٱلْمَلَـٰٓئِكَةَ حَآفِّينَ مِنْ حَوْلِ ٱلْعَرْشِ يُسَبِّحُونَ بِحَمْدِ رَبِّهِمْ ۖ وَقُضِىَ بَيْنَهُم بِٱلْحَقِّ وَقِيلَ ٱلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ ٱلْعَـٰلَمِينَ ٧٥
وَتَرَی
الْمَلٰٓىِٕكَةَ
حَآفِّیْنَ
مِنْ
حَوْلِ
الْعَرْشِ
یُسَبِّحُوْنَ
بِحَمْدِ
رَبِّهِمْ ۚ
وَقُضِیَ
بَیْنَهُمْ
بِالْحَقِّ
وَقِیْلَ
الْحَمْدُ
لِلّٰهِ
رَبِّ
الْعٰلَمِیْنَ
۟۠
اور تم دیکھو گے فرشتوں کو کہ وہ عرش الٰہی کو گھیرے ہوئے ہوں گے اپنے ربّ کی تسبیح بیان کر رہے ہوں گے اس کی حمد کے ساتھ ور ان کے مابین حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا اور پکارا جائے گا کہ ُ کل کی کل حمد اللہ کے لیے ہے جو تمام جہانوں کا رب ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 39:74 سے 39:75 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

آیت نمبر 74

یہ جنت کی سر زمین کے وارث ہوگئے۔ جہاں چاہتے ہیں اس کے اندر جارہے ہیں اور بس رہے ہیں۔ جو چاہتے ہیں کھا رہے ہیں ، سب کچھ موجود ہے۔ ۔ اب اس منظر کا خاتمہ نہایت ہی خوفناک انداز میں ہوتا ہے ، لیکن یہ جلال بھی نہایت دھیمی انداز کا ہے۔ اس منظر کی فضا سے ہم رنگ ۔ پوری کائنات رب کی ثنا میں رطب اللسان ہے۔ نہایت ہی دھیمے انداز میں ، خشوع اور سرافگندگی کے ساتھ اور ہر زندہ مخلوق جس کلمے کو دہراتی وہ نہایت عجز کے ساتھ دہراتی ہے۔