سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: ص 38:75

38:75
قال يا ابليس ما منعك ان تسجد لما خلقت بيدي استكبرت ام كنت من العالين ٧٥
قَالَ يَـٰٓإِبْلِيسُ مَا مَنَعَكَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِيَدَىَّ ۖ أَسْتَكْبَرْتَ أَمْ كُنتَ مِنَ ٱلْعَالِينَ ٧٥
قَالَ
یٰۤاِبْلِیْسُ
مَا
مَنَعَكَ
اَنْ
تَسْجُدَ
لِمَا
خَلَقْتُ
بِیَدَیَّ ؕ
اَسْتَكْبَرْتَ
اَمْ
كُنْتَ
مِنَ
الْعَالِیْنَ
۟
اللہ نے فرمایا : اے ابلیس ! تجھے کس چیز نے روکا کہ تو اس کو سجدہ کرتا جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے ؟ کیا تو نے تکبر کیا یا تو عالی مرتبہ لوگوں میں سے ہے ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت نمبر 75

میں نے اپنے ہاتھوں سے پیدا کیا ؟ اللہ تو سب مخلوقات کا خالق ہے۔ لہٰذا انسان کی تخلیق میں کوئی امتیازی بات ہے ' اس لیے یہاں اللہ نے اپنے دست قدرت کا ذکر کیا ۔ وہ خصوصیت یہ ہے کہ رب تعالیٰ نے اس مخلوق پر مخصوص عنایات کی ہیں ، اس میں اپنی مخصوص روح پھونکی ہے اور اس پر بہت کچھ عنایات کی ہیں۔

تو نے میرے حکم کے مقابلے میں سرکشی کی ہے یا تو کچھ اونچے درجے کی ہستیوں میں سے ہے۔ (ام کنت من العالین (38:

75) یعنی ان لوگوں میں سے ہے جو میری بغاوت پر تلے ہوئے ہوتے ہیں۔