سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الصافات 37:76

37:76
ونجيناه واهله من الكرب العظيم ٧٦
وَنَجَّيْنَـٰهُ وَأَهْلَهُۥ مِنَ ٱلْكَرْبِ ٱلْعَظِيمِ ٧٦
وَنَجَّیْنٰهُ
وَاَهْلَهٗ
مِنَ
الْكَرْبِ
الْعَظِیْمِ
۟ؗۖ
اور ہم نے نجات دی اس کو اور اس کے گھر والوں کو کرب عظیم سے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 37:75 سے 37:77 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ولقد نادنا نوح۔۔۔۔ اغرقنا الاخرین (75 –82) ” ۔ ۔ ۔

اس میں حضرت نوح (علیہ السلام) کی اس دعا کی طرف اشارہ ہے جو انہوں نے رب تعالیٰ سے کی تھی۔ اور اللہ نے ان کی دعا کو پوری طرح قبول فرمایا تھا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ ۔۔۔ جواب دینے والا ہے۔

فلنعم المجیبون (37: 75) ” ہم کسے اچھے جواب دینے والے تھے “۔ اور اللہ نے ان کو اور ان کے اہل و عیال کو کرب عظیم سے نجات دی تھی۔ یعنی وہ کرب عظیم دراصل وہ طوفان تھا جس سے صرف وہی لوگ بچے جن کے بچانے کا اللہ نے ارادہ کرلیا تھا۔ اور جن کی زندگی ابھی باقی تھی اور اللہ کی تقدیر میں جن لوگوں کے بارے میں لکھا تھا کہ اللہ نوح کی اولاد سے ایسے لوگوں کو اٹھائے گا جنہوں نے اس دین پر بطور خلیفۃ اللہ کام کرنا تھا اور اس زمین کو آباد رکھنا تھا تاکہ حضرت نوح کا ذکر آنے والی نسلوں میں باقی رہے۔