سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الصافات 37:62

37:62
اذالك خير نزلا ام شجرة الزقوم ٦٢
أَذَٰلِكَ خَيْرٌۭ نُّزُلًا أَمْ شَجَرَةُ ٱلزَّقُّومِ ٦٢
اَذٰلِكَ
خَیْرٌ
نُّزُلًا
اَمْ
شَجَرَةُ
الزَّقُّوْمِ
۟
بھلا مہمانی کے طور پر یہ بہتر ہے یا زقوم کا درخت ؟
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 37:62 سے 37:63 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

یہاں فریق مخالف کے انجام کا منظر بھی دے دیا جاتا ہے جو قیامت اور حشرو نشر کا منکر تھا تا کہ اہل جنت کے اچھے ، دائمی ، پرامن اور ہمہ گیر عیش اور اچھے انجام کی اہمیت اور اجاگر ہوجائے اہل جہنم کا انجام یہ ہوگا۔

اذٰلک خیر۔۔۔۔۔ الی الجحیم (62-68) ” ۔ وہ ایک درخت ہے جو جہنم کی تہ سے نکلتا ہے ۔ اس کے شگونے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔ جہنم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اسی سے پیٹ بھریں گے ، پھر اس پر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا غیرخالص پانی ملے گا اور اس کے بعد ان کی واپسی اسی آتش دوزخ کی طرف ہوگی “۔

یہ قائم اور دائم نعمتیں بہتر ہیں اور جنت بہتریں جائے قیام ہے ۔ یازقوم کا درخت بطور خوراک اور جہنم جائے قیام بہتر ہے اور زقوم ہے کیا ؟