سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الصافات 37:33

37:33
فانهم يوميذ في العذاب مشتركون ٣٣
فَإِنَّهُمْ يَوْمَئِذٍۢ فِى ٱلْعَذَابِ مُشْتَرِكُونَ ٣٣
فَاِنَّهُمْ
یَوْمَىِٕذٍ
فِی
الْعَذَابِ
مُشْتَرِكُوْنَ
۟
تو اس دن وہ سب کے سب عذاب میں شریک ہوں گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 37:33 سے 37:36 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

فاغوینکم انا کنا غوین (37: 32) ” سو ہم نے تم کو بہکایا ، ہم خود بہکے ہوئے تھے “۔ اب یہاں اس صورت حال ہر ایک دوسرا تبصرہ آتا ہے۔ یہ گویا عدالت ، کھلی عدالت کا ایک فیصلہ ہے۔ جس کے اندر دلائل بھی موجود ہیں۔ بتایا جاتا ہے کہ دنیا میں یہ لوگ ایسے کام کرتے رہے۔ اس لیے آخرت میں ان کے ساتھ یہ سلوک روا رکھا گیا :

فانھم یومئذ فی ۔۔۔۔۔۔ ب (34 – 36) ۔

اور یہ تبصرہ اور یہ فیصلہ ان لوگوں کی سرزنش پر ختم ہوتا ہے جنہوں نے دنیا میں یہ رائے اختیار کی تھی جبکہ یہ رائے نہایت ہی گھٹیا رائے تھی۔