سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: البقرة 2:69

2:69
قالوا ادع لنا ربك يبين لنا ما لونها قال انه يقول انها بقرة صفراء فاقع لونها تسر الناظرين ٦٩
قَالُوا۟ ٱدْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّن لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۚ قَالَ إِنَّهُۥ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌۭ صَفْرَآءُ فَاقِعٌۭ لَّوْنُهَا تَسُرُّ ٱلنَّـٰظِرِينَ ٦٩
قَالُوا
ادْعُ
لَنَا
رَبَّكَ
یُبَیِّنْ
لَّنَا
مَا
لَوْنُهَا ؕ
قَالَ
اِنَّهٗ
یَقُوْلُ
اِنَّهَا
بَقَرَةٌ
صَفْرَآءُ ۙ
فَاقِعٌ
لَّوْنُهَا
تَسُرُّ
النّٰظِرِیْنَ
۟
اب انہوں نے کہا (ذرا ایک دفعہ پھر) ہمارے لیے دعا کیجیے اپنے رب سے کہ وہ ہمیں بتادے کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ گائے ہونی چاہیے زرد رنگ کی جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کو خوب اچھی لگے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 2:68 سے 2:71 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

These Verses show how the Israelites were disposed to disobedience, and how this inclination expressed itself in different forms. The Hadith says that if these people had obeyed Allah's commandment without raising so many doubts and asking unnecessary questions, such strict condition would not have been imposed on them, and the sacrifice of any cow whatsoever would have been accepted.