سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
2:149
ومن حيث خرجت فول وجهك شطر المسجد الحرام وانه للحق من ربك وما الله بغافل عما تعملون ١٤٩
وَمِنْ حَيْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ ٱلْمَسْجِدِ ٱلْحَرَامِ ۖ وَإِنَّهُۥ لَلْحَقُّ مِن رَّبِّكَ ۗ وَمَا ٱللَّهُ بِغَـٰفِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ١٤٩
وَمِنْ
حَیْثُ
خَرَجْتَ
فَوَلِّ
وَجْهَكَ
شَطْرَ
الْمَسْجِدِ
الْحَرَامِ ؕ
وَاِنَّهٗ
لَلْحَقُّ
مِنْ
رَّبِّكَ ؕ
وَمَا
اللّٰهُ
بِغَافِلٍ
عَمَّا
تَعْمَلُوْنَ
۟
اور جہاں کہیں سے بھی آپ ﷺ نکلیں تو (نماز کے وقت) آپ اپنا رخ پھیر لیجیے مسجد حرام کی طرف اور یقیناً یہ حق ہے آپ ﷺ کے رب کی طرف سے اور اللہ غافل نہیں ہے اس سے جو تم کر رہے ہو۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت 149 وَمِنْ حَیْثُ خَرَجْتَ فَوَلِّ وَجْہَکَ شَطْرَ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ ط وَاِنَّہٗ لَلْحَقُّ مِنْ رَّبِّکَ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ جیسا کہ پہلے عرض کیا گیا ‘ یہاں کلام بظاہر آنحضور ﷺ سے ہے ‘ مگر اصل میں آپ ﷺ کی وساطت سے تمام مسلمانوں سے خطاب ہے۔