سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: القصص 28:7

28:7
واوحينا الى ام موسى ان ارضعيه فاذا خفت عليه فالقيه في اليم ولا تخافي ولا تحزني انا رادوه اليك وجاعلوه من المرسلين ٧
وَأَوْحَيْنَآ إِلَىٰٓ أُمِّ مُوسَىٰٓ أَنْ أَرْضِعِيهِ ۖ فَإِذَا خِفْتِ عَلَيْهِ فَأَلْقِيهِ فِى ٱلْيَمِّ وَلَا تَخَافِى وَلَا تَحْزَنِىٓ ۖ إِنَّا رَآدُّوهُ إِلَيْكِ وَجَاعِلُوهُ مِنَ ٱلْمُرْسَلِينَ ٧
وَاَوْحَیْنَاۤ
اِلٰۤی
اُمِّ
مُوْسٰۤی
اَنْ
اَرْضِعِیْهِ ۚ
فَاِذَا
خِفْتِ
عَلَیْهِ
فَاَلْقِیْهِ
فِی
الْیَمِّ
وَلَا
تَخَافِیْ
وَلَا
تَحْزَنِیْ ۚ
اِنَّا
رَآدُّوْهُ
اِلَیْكِ
وَجَاعِلُوْهُ
مِنَ
الْمُرْسَلِیْنَ
۟
اور ہم نے وحی کردی موسیٰ ؑ کی والدہ کو کہ تم اسے دودھ پلاتی رہو اور جب تمہیں اس کے بارے میں اندیشہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا اور نہ خوف کھانا اور نہ رنجیدہ ہونا ہم اسے لوٹانے والے ہیں تمہاری طرف اور اسے بنانے والے ہیں رسولوں میں سے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 28:7 سے 28:13 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

وَأَوْحَيْنَا إِلَىٰ أُمِّ مُوسَىٰ (28:7) The word Wahy (inspiration) is used here in its literal meaning. It does not mean the Wahy that is peculiar to prophets. This point has already been explained under Surah Taha.