سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: النمل 27:47

27:47
قالوا اطيرنا بك وبمن معك قال طايركم عند الله بل انتم قوم تفتنون ٤٧
قَالُوا۟ ٱطَّيَّرْنَا بِكَ وَبِمَن مَّعَكَ ۚ قَالَ طَـٰٓئِرُكُمْ عِندَ ٱللَّهِ ۖ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌۭ تُفْتَنُونَ ٤٧
قَالُوا
اطَّیَّرْنَا
بِكَ
وَبِمَنْ
مَّعَكَ ؕ
قَالَ
طٰٓىِٕرُكُمْ
عِنْدَ
اللّٰهِ
بَلْ
اَنْتُمْ
قَوْمٌ
تُفْتَنُوْنَ
۟
انہوں نے کہا کہ ہم منحوس سمجھتے ہیں تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو اس نے کہا کہ تمہاری نحوست کا معاملہ اللہ کے اختیار میں ہے بلکہ تم ایسے لوگ ہو جو آزمائے جا رہے ہو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 27:45 سے 27:47 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

Commentary

لِمَ تَسْتَعْجِلُونَ بِالسَّيِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ (why do you seek evil to come sooner before good? - 27:46). Sayyidna Salih (علیہ السلام) is referring here to the demand of the infidels that he should bring the divine torment to them in this world, so that they may know his truthfulness. Therefore, "evil" in this sentence stands for torment, while "good" refers to their repentance and invoking divine mercy. It, therefore means, "Why are you asking me to bring the divine punishment before you repent?"