سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:189

26:189
فكذبوه فاخذهم عذاب يوم الظلة انه كان عذاب يوم عظيم ١٨٩
فَكَذَّبُوهُ فَأَخَذَهُمْ عَذَابُ يَوْمِ ٱلظُّلَّةِ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ عَذَابَ يَوْمٍ عَظِيمٍ ١٨٩
فَكَذَّبُوْهُ
فَاَخَذَهُمْ
عَذَابُ
یَوْمِ
الظُّلَّةِ ؕ
اِنَّهٗ
كَانَ
عَذَابَ
یَوْمٍ
عَظِیْمٍ
۟
تو انہوں نے اس کو جھٹلا دیا تو انہیں آپکڑا سائبان والے دن کے عذاب نے یقیناً وہ ایک بڑے دن کا عذاب تھا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

فکذبوہ فاخذھم ……یوم عظیم (189)

’ ان کے بعد عذاب کے بارے میں روایات مختلف ہیں۔ بعض روایات میں یہ آیا ہے کہ اس قدر گری ہوئی کہ دم گھٹ کر مرنے لگے۔ اس کے بعد انہیں ایک بادل سا نظر آیا۔ اس کی طرف لپکے کہ سایہ لیں تو وہ اس قدر ٹھنڈا تھا جس طرح برف ۔ پھر یہ بادل ایک کڑک کی شکل اختیار کر گیا اور ان کو ہلاک کر کے رکھ دیا ۔ اس حوال ی سے ان کے عذاب کو بادل کے ٹکڑے کے دن سے تعبیر کیا گیا۔

اور اب وہی تبصرہ اور سبق آتا ہے جو تمام قصص کے بعد اس پوری سورت میں دہرایا گیا ہے۔