سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:187

26:187
فاسقط علينا كسفا من السماء ان كنت من الصادقين ١٨٧
فَأَسْقِطْ عَلَيْنَا كِسَفًۭا مِّنَ ٱلسَّمَآءِ إِن كُنتَ مِنَ ٱلصَّـٰدِقِينَ ١٨٧
فَاَسْقِطْ
عَلَیْنَا
كِسَفًا
مِّنَ
السَّمَآءِ
اِنْ
كُنْتَ
مِنَ
الصّٰدِقِیْنَ
۟ؕ
تو گرا دو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا اگر تم سچے ہو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

فاسقط علینا کسفاً من السمآء ان کنت من الصدیقین (187)

یہ ایک ایسے شخص کا چیلنج ہے جو نہایت ہی سرکش ، مغرور اور لاپرواہ ہے۔ مکہ مکرمہ میں مشرکزین بھی للہ ﷺ سے ایسے ہی مطالبہ کرتے تھے۔