سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:173

26:173
وامطرنا عليهم مطرا فساء مطر المنذرين ١٧٣
وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًۭا ۖ فَسَآءَ مَطَرُ ٱلْمُنذَرِينَ ١٧٣
وَاَمْطَرْنَا
عَلَیْهِمْ
مَّطَرًا ۚ
فَسَآءَ
مَطَرُ
الْمُنْذَرِیْنَ
۟
اور ہم نے برسائی ان پر ایک بارش تو بہت ہی بری تھی وہ بارش جو ان لوگوں پر برسی جنہیں خبردار کردیا گیا تھا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:172 سے 26:175 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ثم دمرنا……المنذرین (173)

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ان کے گائوں دھنس گئے اور پانی کے نیچے آگئے۔ ان گائوں میں سے ایک گائوں ” سدوم “ بھی تھا۔ آثا رقدیر کے ماہرین کہتے ہیں کہ یہ گائوں بحر مروار کے پانی کے نیچے موجود ہے۔

بعض علمائے طبقات الارض کا یہ نظریہ ہے کہ سحر مردار کے نیچے ایسے گائوں کے کھنڈرات ہیں جو کسی وقت آبادی سے بھرے ہوئے تھے۔ آثار قدیمہ کے ماہرین نے اس دریا کے پاس ایک قلعے کے آثار دریافت کئے ہیں اور اس قلعے کے قریب ہی ایک مذبح ہے جس کے اوپر قربانیاں دی جاتی تھیں۔

بہرحال قرآن کریم نے حضرت لوط کے گائوں کی کہانی اسی رطح پیش فرمائی ہے اور سابقہ اقوام کی خبروں کے سلسلے میں قرآن کریم ہی حقیقی اور سچا ماخذ ہے۔ کیونکہ اللہ کی کتابوں میں سے یہی محفوظ ہے۔

آخر میں وہی تبصرہ انہی الفاظ میں جو ہر قصے کے بعد آیا ہے۔