سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: الشعراء 26:140

26:140
وان ربك لهو العزيز الرحيم ١٤٠
وَإِنَّ رَبَّكَ لَهُوَ ٱلْعَزِيزُ ٱلرَّحِيمُ ١٤٠
وَاِنَّ
رَبَّكَ
لَهُوَ
الْعَزِیْزُ
الرَّحِیْمُ
۟۠
اور (اے نبی ﷺ !) آپ کا رب زبردست ہے نہایت رحم فرمانے والا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 26:139 سے 26:140 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

فکذبوہ فاھلکنھم

غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے “۔ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔

غرض صرف دو لفظوں میں ان کا انجام بتا دیا جاتا ہے۔ دو لفظوں میں قصہ تمام ” تکذیب “ کی ” ہلاک ہوئے۔ “ وہ تمام محلات لپیٹ دیئے گئے۔ وہ تمام انعامات و اکرامات واپس لے لئے گئے۔ وہ تمام مویشی ، تمام آبادی ، تمام باغات اور تمام چشمے لپیٹے گئے۔

قوم عاد کے بعد کئی دوسری اقوام نے انسانی تاریخ میں عادیوں کی طرح سوچا ، عادیوں کی طرح دھوکہ کھایا ، اللہ سے دور ہو کر انہوں نے تہذیب و تمدن میں ترقی کی اور یہ سوچا کہ اب انسان اس قدر ترقی کرچکا ہے کہ اسے خدا کی ضرورت نہیں ہے۔ کئی اقوام نے دوسروں کے لئے ہلاکت کا سامان تیار کیا اور اپنے آپ کو بچایا اور یہ سوچتی رہیں کہ یہ ساز و سامان اسے اپنے دشمنوں سے بچا لے جائے گا لیکن ایسی اقوام کو خبر بھی نہیں ہوتی کہ اس کے دائیں ، اس کے بائیں ، اس کے اوپر ، اس کے نیچے اور ہر طرف سے اس پر عذاب ٹوٹ پڑتا ہے۔