سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: طه 20:90

20:90
ولقد قال لهم هارون من قبل يا قوم انما فتنتم به وان ربكم الرحمان فاتبعوني واطيعوا امري ٩٠
وَلَقَدْ قَالَ لَهُمْ هَـٰرُونُ مِن قَبْلُ يَـٰقَوْمِ إِنَّمَا فُتِنتُم بِهِۦ ۖ وَإِنَّ رَبَّكُمُ ٱلرَّحْمَـٰنُ فَٱتَّبِعُونِى وَأَطِيعُوٓا۟ أَمْرِى ٩٠
وَلَقَدْ
قَالَ
لَهُمْ
هٰرُوْنُ
مِنْ
قَبْلُ
یٰقَوْمِ
اِنَّمَا
فُتِنْتُمْ
بِهٖ ۚ
وَاِنَّ
رَبَّكُمُ
الرَّحْمٰنُ
فَاتَّبِعُوْنِیْ
وَاَطِیْعُوْۤا
اَمْرِیْ
۟
اور ہارون ؑ انہیں پہلے ہی کہہ چکا تھا اے میری قوم کے لوگو ! تمہیں تو اس (بچھڑے) کے ذریعے سے فتنے میں ڈالا گیا ہے اور یقیناً تمہارا رب (یہ بچھڑا نہیں بلکہ) رحمن ہے چناچہ تم لوگ میری پیروی کرو اور میری بات مانو
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:89 سے 20:91 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

افلا یرون الا یرجع الیھم قولاً ولا یملک لھم ضراً ولا نفعاً (02 : 98) ” کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ ان کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے۔ مقصود یہ ہے کہ وہ تو زندہ بچھڑا بھی نہ تھا کہ وہ ان کی بات سن سکتا اور نہ اس قدر جواب دے سکتا تھا جس قدر ایک زندہ بچھڑا دے سکتا ہے۔ چونکہ یہ بچھڑا تو حیوانیت کے درجے سے بھی نیچے ہے ، لہٰذا وہ ان کے نفع و نقصان کا مالک بھی نہیں ہے۔ یہ نہایت ہی سادہ حقیقت ہے کہ وہ نہ ہل چلاتا ہے نہ کنوئیں سے پانی نکال سکتا ہے نہ آٹے کی چکی چلا سکتا ہے۔

ان سب امور کو ایک طرف رہنے دیں۔ حضرت ہارون (علیہ السلام) موجود تھے۔ وہ ان کے نبی بھی تھے اور اس نبی کے نئاب تھے جو ان کا نجات دہندہ تھا۔ اس وقت انہوں نے ان کو متنبہ بھی کیا جب ان پر یہ آزمائش آئی۔ انہوں نے کہا تھا :