سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: طه 20:119

20:119
وانك لا تظما فيها ولا تضحى ١١٩
وَأَنَّكَ لَا تَظْمَؤُا۟ فِيهَا وَلَا تَضْحَىٰ ١١٩
وَاَنَّكَ
لَا
تَظْمَؤُا
فِیْهَا
وَلَا
تَضْحٰی
۟
اور یہ کہ نہ تمہیں اس میں پیاس (پریشان کرتی) ہے اور نہ دھوپ (کی کوئی تکلیف)
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:118 سے 20:119 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

ان لک الا تجوع فیھا ولا تعری (811) وانک لا تظموا فیھا ولا تضحی (02 : 811-911) ” نہ بھوکے اور نہ ننگے رہو ، نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستائے۔ “ جب تک تم جنت میں ہو گے یہ سب سہولتیں تمہیں حاصل ہوں گی۔ بھوک اور لباس کی نایابی ، پیاس اور دھوپ کے بالمقابل ہیں لفظاً اور معناً یہ وہ مجموعہ ضروریات ہے جو ہر انسان کو اس زمین پر مشقت میں ڈالتا ہے۔

لیکن آدم ، جنت میں زندگی کی ٹھوکروں سے دوچار نہ ہوئے تھے ، تجربات نہ تھے۔ انسانی کمزور ساتھ تھی ، بقائے دوام کی خواہش انسان کی بڑی کمزوری ہے۔ پھر بقائے دوام کے ساتھ اقتدار مستحکم اس کے سوا انسان کو اور کیا چاہئے۔ چناچہ شیطان اس دروازے سے اس کے اندر آتا ہے۔