سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: طه 20:112

20:112
ومن يعمل من الصالحات وهو مومن فلا يخاف ظلما ولا هضما ١١٢
وَمَن يَعْمَلْ مِنَ ٱلصَّـٰلِحَـٰتِ وَهُوَ مُؤْمِنٌۭ فَلَا يَخَافُ ظُلْمًۭا وَلَا هَضْمًۭا ١١٢
وَمَنْ
یَّعْمَلْ
مِنَ
الصّٰلِحٰتِ
وَهُوَ
مُؤْمِنٌ
فَلَا
یَخٰفُ
ظُلْمًا
وَّلَا
هَضْمًا
۟
اور جس کسی نے نیک اعمال کیے ہوں گے اور وہ مؤمن ہوگا تو اسے نہ کسی بےانصافی کا اندیشہ ہوگا اور نہ کسی زیادتی کا
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 20:111 سے 20:112 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

وعنت الوجوہ للحی القیوم (02 : 111) ” لوگوں کے سر اس حی و قویم کے آگے جھک جائیں گے۔ “ جلال خداوندی کا خوف لوگوں پر چھایا ہوا ہوگا۔ یہ میدان جو حد نظر سے آگے پھیلا ہوا ہوگا اس پر خوف ، خاموشی چھائی ہوئی ہوگی اور لوگ اس میں سہمے کھڑے ہوں ے۔ بات دھیمی ہوگی ، سوال سرگوشی میں ، حالت سہمی ہوئی ، چہرے جھکے ہوئے اور ال لہ ذوالجلال کا ڈرا ماحول پر چھایا ہوا ہوگا۔ کوئی اس میدان میں سفارش نہ کرسکے گا مگر وہ جس کی بات اللہ کو پسند ہو۔ علم سب کا سب اللہ کو ہوگا ، کوئی دوسرا جانتا نہیں ، ظالم اپنے ظلم کا بوجھ اٹھائے ہوئے ہوں گے اور ان کو شرمساری سے دوچار ہونا پڑے گا۔ ان لوگوں میں اہل ایمان بھی کھڑے ہوں گے۔ ان کو نہ یہ خوف ہوگا کہ ان پر حساب و کتاب میں ظلم ہوگا اور نہ یہ ڈر ہوگا کہ ان کے اعمال میں سے کوئی عمل رہ جائے اور اس کی حق تلفی ہوجائے۔