سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔
1:4
مالك يوم الدين ٤
مَـٰلِكِ يَوْمِ ٱلدِّينِ ٤
مٰلِكِ
يَوۡمِ
الدِّيۡنِؕ‏
٤
جزا و سزا کے دن کا مالک و مختار ہے۔
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

مٰلِکِ یَومِ الدِّینِ ” روز جزاء کا مالک ہے۔ “ اس آیت میں اسلام کا وہ اصولی اور بنیادی عقیدہ بیان کیا گیا ہے ‘ جس کے اثرات پوری انسانی زندگی پر نہایت گہرے ہوتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے روزجزاء کے بارے میں ملکیت کا لفظ استعمال کیا ہے ۔ جو قبضہ واستیلاء اور تصرف واختیار کے نہایت اعلیٰ درجے کو ظاہر کررہا ہے ۔ یوم الدین سے مراد قیامت کا روز جزاء ہے ۔ یاد رہے کہ نزول قرآن کے وقت بعض ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کو الٰہ مانتے تھے ۔ اور اللہ کی صفت تخلیق پر بھی یقین رکھتے تھے ۔ اور کہتے تھے کہ اللہ ہی اس دنیا کو عدم سے وجود میں لایا ‘ اس کے باوجود وہ یوم جزاء اور حساب کتاب کے قائل نہ تھے ۔ ایسے ہی لوگوں کے بارے میں قرآن مجید کہتا ہے : وَلَئِن سَاَلتَھُم مَن خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالاَرضِ لَیَقُولُنَّ اللّٰہ ” اگر آپ نے ان سے پوچھیں کہ آسمان اور زمین کو کس نے پیدا کیا تو کہیں گے اللہ نے ۔ “ اور دوسری جگہ میں ہے : بَل عَجِبُوآ اَن جَآئَہُم مُّنذِرٌ مِّنہُم فَقَالَ الکٰفِرُونَ ھٰذَا شَیئٌ عَجِیبٌ، أَ اِذَا مِتنَا وَ کُنَّا تُرَابًا ذٰلِکَ رَجعٌ م بَعِیدٌ(ق : 3۔ 2) ” انہیں یہ بات عجیب لگی کہ ان کے پاس خود ان میں سے ڈرانے ولا آیا ۔ کافروں نے کہا یہ اچھنبے کی بات ہے ۔ کیا جب ہم مرجائیں گے اور مٹی ہوجائیں گے تو پھر آنا عقل سے بعید کی بات ہے ۔ “

یوم آخرت پر ایمان اسلام کے اساسی عقائد میں سے ایک اہم عقیدہ ہے اور لوگوں کے دل اور دماغ میں ‘ اس جہاں سے آگے ‘ دارآخرت میں اللہ کے سامنے جوابدہی کا احساس پیدا کرنے میں اس کی اہمیت حددرجہ مسلمہ ہے ۔ اس عقیدے پہ ایمان لانے والے اس دنیائے دنی کی ضروریات کے حصول ہی میں منہمک نہیں ہوجاتے بلکہ اس عقیدے پر ایمان لانے کے بعد وہ دنیاوی حوائج و ضروریات سے بلند ہوکر سوچتے ہیں ۔ انہیں اس بات کی کوئی فکر نہیں ہوتی کہ اس محدود مختصر عمر اور دنیا کے اس تنگ دائرہ مکافات میں انہیں اپنے اعمال حسنہ کی پوری جزاء ملتی ہے یا نہیں ۔ بلکہ ان کی تمام نیکی اور اللہ کی راہ میں تمام جدوجہد سے مقصود صرف اللہ کی رضاجوئی ہوتی ہے ۔ وہ اعمال کا بدلہ صرف اللہ تعالیٰ ہی سے مانگتے ہیں ۔ خواہ وہ اس دنیا میں ملے یا آخرت میں ملے ۔ وہ مطمئن رہتے ہیں ۔ انہیں حق وصداقت پر بھروسہ ہوتا ہے ۔ وہ حق پر جم جاتے ہیں اور وہ دولت یقین ‘ وسعت قلب ونظر اور حسن خلق کے مالک ہوجاتے ہیں .... غرض یہ اصولی عقیدہ اس بات کے لئے معیاروکسوٹی ہے کہ کوئی انسان محض اپنی خواہشات ومرغوبات کا بندہ و غلام ہے یا اسے انسان کی انسانیت کے لائق آزادی وحریت بھی حاصل ہے ۔ اس سے معلوم ہوجاتا ہے کہ اس جہاں میں دنیاوی اقدار ‘ مادی تصورات اور جاہلیت کو برتری حاصل ہے یا ربانی اقدار ‘ روحانی تصورات اور اسلامی نظریہ حیات کو جاہلیت کی منطق پہ غلبہ حاصل ہے ۔ نیز اس اصولی عقیدے کے ذریعے وہ بلند مقام نکھر کر سامنے آتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اپنے بندوں کے لئے پسند فرمایا ہے اور ناقص ‘ ناخالص اور منحرف تصورات حیات اور انسانیت کے اس بلند مقام کے درمیان فرق و امتیاز بھی واضح ہوجاتا ہے۔

جب تک انسانوں کے دل و دماغ میں یہ اصولی عقیدہ جاگزیں نہیں ہوجاتا ‘ اور لوگوں کے دلوں میں یہ اطمینان پیدا نہیں ہوجاتا کہ دنیاوی فوائد اور مادی مرغوبات انسان کا پورا مقدر نہیں ہے اور جب تک محدود عمر رکھنے والا یہ انسان ‘ یہ یقین نہیں کرلیتا کہ ایک آنے والی زندگی بھی ہے اور اس کا یہ فرض ہے کہ وہ اگلے جہاں اور اس زندگی کے لئے بھی محنت کرے ‘ اس کے لئے قربانی دے ‘ حق کی نصرت کرے ‘ بھلائی میں تعاون کرے اور یہ کہ ان سب باتوں کا اجر اسے آخرت میں ملے گا ‘ اس وقت تک انسانی زندگی اسلامی نظام حیات کے مطابق استوار نہیں ہوسکتی ۔

عقیدہ آخرت پر یقین رکھنے والا اور اس کا انکار کرنے والا اخلاق و شعور اور فکر وعمل میں ہرگز برابر نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا یہ دونوں گروہ اللہ کی مخلوقات کے علیحدہ علیحدہ انواع ہیں ۔ یہ دونوں مختلف طبائع رکھتے ہیں اور اس دنیا میں ان دونوں کا طرز عمل ہرگز ایک نہیں ہوسکتا اور نہ آخرت میں یہ دونوں ایک ہی طرح کے جزاء کے مستحق ٹھہر سکتے ہیں ۔ لہٰذا یہ عقیدہ ان دونوں کے درمیان ایک واضح فرق و امتیاز کا باعث بن جاتا ہے۔

He has revealed to you ˹O Prophet˺ the Book in truth, confirming what came before it, as He revealed the Torah and the Gospel
— Dr. Mustafa Khattab, the Clear Quran

قرآن سے جڑے رہیں ❤️

قرآن سے ربط تازہ کرنے، غور کرنے اور اس سے جڑے رہنے کے لیے مختصر معنی خیز یاددہانی۔

قرآن کو پڑھیں، سنیں، تلاش کریں، اور اس پر تدبر کریں۔

Quran.com ایک قابلِ اعتماد پلیٹ فارم ہے جسے دنیا بھر کے لاکھوں لوگ قرآن کو متعدد زبانوں میں پڑھنے، سرچ کرنے، سننے اور اس پر تدبر کرنے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ یہ ترجمے، تفسیر، تلاوت، لفظ بہ لفظ ترجمہ اور گہرے مطالعے کے ٹولز فراہم کرتا ہے، جس سے قرآن سب کے لیے قابلِ رسائی بنتا ہے۔

صدقۂ جاریہ کے طور پر، Quran.com لوگوں کو قرآن کے ساتھ گہرا تعلق قائم کرنے میں مدد کے لیے وقف ہے۔ Quran.Foundation کے تعاون سے، جو ایک 501(c)(3) غیر منافع بخش تنظیم ہے، Quran.com سب کے لیے ایک مفت اور قیمتی وسیلہ کے طور پر بڑھتا جا رہا ہے، الحمد للہ۔

نیویگیٹ کریں۔
ہوم
قرآن ریڈیو
قراء
ہمارے بارے میں
ڈویلپرز
پروڈکٹ اپڈیٹس
رائے
مدد
عطیہ کریں۔
ہمارے پروجیکٹس
Quran.com
Quran For Android
Quran iOS
QuranReflect.com
Quran.AI
Sunnah.com
Nuqayah.com
Legacy.Quran.com
Corpus.Quran.com
غیر منافع بخش منصوبے جو Quran.Foundation کی ملکیت، زیرِ انتظام یا زیرِ سرپرستی ہیں۔
مشہور لنکس

آیت الکرسی

سورہ یسین

سورہ الملک

سورہ الرحمان

سورہ الواقعة

سورہ الكهف

سورہ المزمل

سائٹ کا نقشہرازداریشرائط و ضوابط
© 2026 Quran.com. جملہ حقوق محفوظ ہیں
تعاون کریں۔