سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: مريم 19:61

19:61
جنات عدن التي وعد الرحمان عباده بالغيب انه كان وعده ماتيا ٦١
جَنَّـٰتِ عَدْنٍ ٱلَّتِى وَعَدَ ٱلرَّحْمَـٰنُ عِبَادَهُۥ بِٱلْغَيْبِ ۚ إِنَّهُۥ كَانَ وَعْدُهُۥ مَأْتِيًّۭا ٦١
جَنّٰتِ
عَدْنِ
لَّتِیْ
وَعَدَ
الرَّحْمٰنُ
عِبَادَهٗ
بِالْغَیْبِ ؕ
اِنَّهٗ
كَانَ
وَعْدُهٗ
مَاْتِیًّا
۟
(انہیں ملیں گے) عیش دوام کے باغات جن کا وعدہ کیا تھا رحمن نے اپنے بندوں سے غیب میں یقیناً اس کا وعدہ تو پورا ہونے والا ہی ہے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث
آپ 19:60 سے 19:61 آیات کے گروپ کی تفسیر پڑھ رہے ہیں

وہ توبہ جو ایمان اور عمل صالح پیدا کردیتی ہے ‘ وہی صحیح معنوں میں توبہ ہوتی ہے اور وہی برے انجام سے انسان کو بچاتی ہے۔ ایسے حقیقی تائب برے انجام تک پہچنے سے بچ جاتے ہیں۔ وہ تو جنت میں جاتے ہیں اور ان پر ذرہ برابر ظلم نہیں ہوتا۔ جنت میں وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے داخل ہوتے ہیں۔ وہ جنت مجس کا وعدہ اللہ نے اپنے بندوں سے کرر کھا ہے۔ وہ اس پر ایمان لائے اور دیکھنے سے قبل ہی اس پر یقین کیا۔ ہی اللہ کا وعدہ ہے اور اللہ کا وعدہ کبھی ضائع نہیں ہوتا۔

اہل جنت اور جنت کی تصویر کیا ہوگی ؟