سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
سائن ان کریں۔
زبان منتخب کریں۔

تفسیر: يوسف 12:85

12:85
قالوا تالله تفتا تذكر يوسف حتى تكون حرضا او تكون من الهالكين ٨٥
قَالُوا۟ تَٱللَّهِ تَفْتَؤُا۟ تَذْكُرُ يُوسُفَ حَتَّىٰ تَكُونَ حَرَضًا أَوْ تَكُونَ مِنَ ٱلْهَـٰلِكِينَ ٨٥
قَالُوْا
تَاللّٰهِ
تَفْتَؤُا
تَذْكُرُ
یُوْسُفَ
حَتّٰی
تَكُوْنَ
حَرَضًا
اَوْ
تَكُوْنَ
مِنَ
الْهٰلِكِیْنَ
۟
انہوں نے کہا : (ابا جان !) اللہ کی قسم آپ تو یوسف ہی کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ آپ یا تو (اسی صدمے میں) گھل جائیں گے یا فوت ہوجائیں گے
تفاسیر
لیئرز
اسباق
تدبرات
جوابات
قرأت
حدیث

آیت نمبر 85

یہ نہایت ہی مکروہ اور بغض و حسد سے زہر آلود بات ہے ، خدا کی قسم آپ اپنے آپ کو یوسف (علیہ السلام) کی یاد میں ہلاک کر رہے ہیں۔ آپ دیکھتے نہیں کہ آپ پگھل کر رہ گئے ہیں۔ آخر اس غم واندوہ اور ماتم کا اب کیا فائدہ ؟ ہر چیز کی ایک حد ہوتی ہے ۔ یوسف (علیہ السلام) تو اب گیا وہ لوٹ کر آنے والا نہیں ہے۔

لیکن والدان کی اس بات رد فرماتے ہیں۔ کہتے ہیں کہ بس چھوڑ دو مجھے۔ میرا غم اور میرا شکوہ اللہ ہی سے ہے۔ میرا میرے رب کے ساتھ تعلق ہے اور میں اللہ کی جانب سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔