Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
99:2
واخرجت الارض اثقالها ٢
وَأَخْرَجَتِ ٱلْأَرْضُ أَثْقَالَهَا ٢
وَأَخۡرَجَتِ
ٱلۡأَرۡضُ
أَثۡقَالَهَا
٢
Yer dehşetle sarsıldıkça sarsıldığı, yeryüzü ağırlıklarını dışarıya çıkardığı ve insanın: "Buna ne oluyor?" dediği zaman;
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
99:1 ile 99:2 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

یہ ہے منظر قیام قیامت کا ، اس دن زمین نہایت شدت سے ہلا ماری جائے گی اور ایک شدید زلزلہ برپا ہوگا اور زمین کے پیٹ کے اندر جو کچھ ہوگا ، وہ اسے باہر پھینک دے گی اور اس نے ایک طویل عرصے سے انسانی جانوں کا جو بوجھ اٹھارکھا ہوگا ، یا اس کے اندر جو معدنیات ہوں گے وہ ان کو اٹھاکر باہر پھینک دے گی ، گویا اس بوجھ کو باہر پھینک کر وہ ہلکی ہوجائے گی۔

یہ ایک ایسی تصویر کشی ہے کہ سننے والے اپنے پاﺅں کے نیچے کھڑی ہر چیز متزلزل محسوس کرتے ہیں کہ وہ ڈگمگا رہے ہیں ، لڑکھڑا رہے ہیں ، ان کے قدموں کے نیچے سے زمین کانپ رہی ہے ، دوڑرہی ہے ، یہ ایک ایسا منظر ہے جس کو دیکھ کر انسان تمام امور سے قطع تعلق کرلیتا ہے جو انسان کو اس زمین سے وابستہ کرتے ہیں اور جن کے بارے میں انسان یہ خیال کرتا ہے کہ وہ ثابت اور باقی ہیں۔ قرآن اس قسم کے مناظر سے جو اثرات قائم کرنا چاہتا ہے۔ یہ ان میں سے پہلا اثر ہے اور قرآن کی یہ منفرد آیات سنتے ہی یہ اثر انسان کے اعصاب تک منتقل ہوجاتا ہے۔ یہ تاثر اس وقت اور گہرا ہوجاتا ہے ۔ جب قرآن کریم میدان حشر میں کھڑے اس ” انسان “ کے تاثرات قلم بند کرتا ہے ، جو ان مناظر کو دیکھ رہا ہوگا۔