Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tefsir: Yusuf 12:59

12:59
ولما جهزهم بجهازهم قال ايتوني باخ لكم من ابيكم الا ترون اني اوفي الكيل وانا خير المنزلين ٥٩
وَلَمَّا جَهَّزَهُم بِجَهَازِهِمْ قَالَ ٱئْتُونِى بِأَخٍۢ لَّكُم مِّنْ أَبِيكُمْ ۚ أَلَا تَرَوْنَ أَنِّىٓ أُوفِى ٱلْكَيْلَ وَأَنَا۠ خَيْرُ ٱلْمُنزِلِينَ ٥٩
وَلَمَّا
جَهَّزَهُم
بِجَهَازِهِمۡ
قَالَ
ٱئۡتُونِي
بِأَخٖ
لَّكُم
مِّنۡ
أَبِيكُمۡۚ
أَلَا
تَرَوۡنَ
أَنِّيٓ
أُوفِي
ٱلۡكَيۡلَ
وَأَنَا۠
خَيۡرُ
ٱلۡمُنزِلِينَ
٥٩
Onların yüklerini hazırlatınca şöyle dedi: "Baba bir kardeşinizi bana getirin. Sizlere ölçüyü bol tuttuğumu ve benim misafir konuklayanların en iyisi olduğumu görmüyor musunuz?"
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
12:58 ile 12:61 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

حضرت یوسف کے اقتدار کے ابتدائی سات سال تک خوب فصل پیدا ہوئی۔ آپ نے سارے ملک میں بڑے بڑے کھتّے بنوائے اور کسانوں سے ان کا فاضل غلَہ خرید کر ہر سال ان کھتوں میں محفوظ کرتے رہے اس کے بعد جب قحط کے سال شروع ہوئے تو آپ نے اس غلہ کو دار السلطنت میں منگوا کر مناسب قیمت پر فروخت کرنا شروع کردیا۔

یہ قحط چونکہ مصر کے علاوہ اطراف کے علاقوں (شام، فلسطین، شرق اردن وغیرہ) تک پھیلا ہوا تھا، اس لیے جب یہ خبر مشہور ہوئی کہ مصر میں غلّہ سستی قیمت پر فروخت ہورہا ہے تو برادران یوسف بھی غلّہ لینے کے لیے مصر آئے۔ یہاں حضرت یوسف کو اگرچہ انھوں نے بیس سال بعد دیکھا تھا، تاہم آپ کی شکل وصورت میں انھیں اپنے بھائی کی جھلک نظر آئی۔ مگر جلد ہی انھوں نے اس کو اپنے دل سے نکال دیا۔ کیوں کہ ان کی سمجھ میں نہیں آیا کہ جس شخص کو وہ اندھے کنویں میں ڈال چکے ہیں وہ مصر کے تخت پر متمکن ہوسکتاہے۔

حضرت یوسف نے اپنے بھائیوں کو ایک ایک اونٹ فی کس غلّہ دلوایا۔ اب ان کے دل میں یہ خواہش ہوئی کہ بن یامین کے نام پر ایک اونٹ غلّہ اور حاصل کریں۔ انھوںنے درخواست کی کہ ہمارے ایک بھائی (بن یامین) کو بوڑھے باپ نے اپنے پاس روک لیا ہے۔ اگر ہم کو اس بھائی کے حصہ کا غلّہ بھی دیا جائے تو بڑی عنایت ہو۔ حضرت یوسف نے کہا کہ غائب کا حصہ دینا ہمارا طریقہ نہیں۔ تم دوبارہ آؤ تو اپنے اس بھائی کو بھی ساتھ لاؤ۔ اس وقت تم اس کا حصہ پاسکوگے۔ تم میری بخشش کا حال دیکھ چکے ہو۔ کیا اس کے بعد بھی تمھیں اپنے بھائی کو لانے میں تردد ہے۔ حضرت یوسف نے مزید کہا کہ جو بھائی تم بتارہے ہو اگر تم اگلی بار اس کو نہ لائے تو سمجھا جائے گا کہ تم جھوٹ بولتے ہو اور محض دھوکہ دے کر ایک اونٹ غلّہ اور لینا چاہتے تھے۔ اس کی سزا یہ ہوگی کہ آئندہ خود تمھارے حصہ کا غلّہ بھی تم کو نہیںدیا جائے گا۔