Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tazkir ul Quran Tefsir: Yusuf Ayah 41

12:41
يا صاحبي السجن اما احدكما فيسقي ربه خمرا واما الاخر فيصلب فتاكل الطير من راسه قضي الامر الذي فيه تستفتيان ٤١
يَـٰصَـٰحِبَىِ ٱلسِّجْنِ أَمَّآ أَحَدُكُمَا فَيَسْقِى رَبَّهُۥ خَمْرًۭا ۖ وَأَمَّا ٱلْـَٔاخَرُ فَيُصْلَبُ فَتَأْكُلُ ٱلطَّيْرُ مِن رَّأْسِهِۦ ۚ قُضِىَ ٱلْأَمْرُ ٱلَّذِى فِيهِ تَسْتَفْتِيَانِ ٤١
يَٰصَٰحِبَيِﲋ
ٱلسِّجۡنِﲌ
أَمَّآﲍ
أَحَدُكُمَاﲎ
فَيَسۡقِيﲏ
رَبَّهُۥﲐ
خَمۡرٗاۖﲑﲒ
وَأَمَّاﲓ
ٱلۡأٓخَرُﲔ
فَيُصۡلَبُﲕ
فَتَأۡكُلُﲖ
ٱلطَّيۡرُﲗ
مِنﲘ
رَّأۡسِهِۦۚﲙﲚ
قُضِيَﲛ
ٱلۡأَمۡرُﲜ
ٱلَّذِيﲝ
فِيهِﲞ
تَسۡتَفۡتِيَانِﲟ
٤١ﲠ
"Ey mahpus arkadaşlarım! Biriniz efendinize şarap sunacak, diğeri asılacak ve kuşlar başından yiyecektir. Sorduğunuz iş işte böylece kesinleşmiştir."
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
12:41 ile 12:42 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

دو نوجوان جو جیل میں لائے گئے وہ شاہ مصر (ریان بن الولید) کے ساقی اور خبّاز تھے۔ دونوں پر یہ الزام تھاکہ انھوں نے بادشاہ کے کھانے میں زہر ملانے کی کوشش کی۔ ان میں سے جو ساقی تھا وہ تحقیق کے بعد الزام سے بری ثابت ہوا اور رہائی پاکر دوبارہ بادشاہ کا ساقی مقرر ہوا۔ اس کے خواب کامطلب یہ تھا کہ اب وہ بادشاہ کو خواب میں شراب پلا رہا ہے کچھ دن بعدوہ بیداری میں اس کو شراب پلائے گا۔ خبّاز پر الزام ثابت ہوگیا۔ اس کو سولی دے کر چھوڑ دیاگیا کہ چڑیاں اس کا گوشت کھائیں اور وہ لوگوں کے لیے عبرت ہو۔

حضرت یوسف کی دونوں تعبیریں بالکل درست ثابت ہوئیں۔ مگر ساقی قید سے چھوٹ کر دوبارہ محل میں پہنچا تو وہ حسبِ وعدہ بادشاہ سے حضرت یوسف کا ذکر کرنا بھول گیا۔ اس کو اپنا کیا ہوا وعدہ صرف اس وقت یاد آیا جب کہ بادشاہ نے ایک خواب دیکھا اور درباریوں سے کہا کہ اس کی تعبیر بتاؤ۔