Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin

Tazkir ul Quran Tefsir: Taha Ayah 94

20:94
قال يا ابن ام لا تاخذ بلحيتي ولا براسي اني خشيت ان تقول فرقت بين بني اسراييل ولم ترقب قولي ٩٤
قَالَ يَبْنَؤُمَّ لَا تَأْخُذْ بِلِحْيَتِى وَلَا بِرَأْسِىٓ ۖ إِنِّى خَشِيتُ أَن تَقُولَ فَرَّقْتَ بَيْنَ بَنِىٓ إِسْرَٰٓءِيلَ وَلَمْ تَرْقُبْ قَوْلِى ٩٤
قَالَﲅ
يَبۡنَؤُمَّﲆ
لَاﲇ
تَأۡخُذۡﲈ
بِلِحۡيَتِيﲉ
وَلَاﲊ
بِرَأۡسِيٓۖﲋﲌ
إِنِّيﲍ
خَشِيتُﲎ
أَنﲏ
تَقُولَﲐ
فَرَّقۡتَﲑ
بَيۡنَﲒ
بَنِيٓﲓ
إِسۡرَٰٓءِيلَﲔ
وَلَمۡﲕ
تَرۡقُبۡﲖ
قَوۡلِيﲗ
٩٤ﲘ
Harun: "Ey Annemoğlu! Saçımdan sakalımdan tutma; doğrusu İsrailoğulları arasına ayrılık koydun, sözüme bakmadın demenden korktum" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
20:92 ile 20:94 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

حضرت موسیٰ نے اپنے بھائی کا سختی کے ساتھ محاسبہ کیا۔ حضرت ہارون نے جواب دیا کہ ایسا نہیں ہے کہ میںنے اصلاح کی کوشش نہیں کی اور جاہلوں کے ساتھ مصالحت کرلی۔ بلکہ میں نے پوری قوت کے ساتھ ان کو اس مشرکانہ فعل سے روکنے کی کوشش کی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ قوم کی اکثریت سامری کے فریب میں آکر اس کی ساتھی بن گئی۔ میں نے اصرار کیا تو وہ لوگ جنگ وقتل پر آمادہ ہوگئے۔مجھے اندیشہ ہوا کہ اگر میں اصرار جاری رکھتاہوں تو قوم کے اندر باہمی خون ریزی شروع ہوجائے گی۔

معاملہ اس نوبت تک پہنچنے کے بعد اب مجھے دو میں سے ایک چیز کا انتخاب کرنا تھا۔ یا تو باہمی جنگ، یا آپ کی آمد تک اس معاملہ کو ملتوی رکھنا۔ میں نے دوسری صورت کو اَہون (آسان تر)سمجھ کراس کو اختیار کرلیا— بہت سے مواقع پر دین کا تقاضا یہ ہوتا ہے کہ باہمی لڑائی سے بچنے کے لیے خاموشی کا طریقہ اختیار کرلیا جائے، حتی کہ شرک جیسے معاملہ میں بھی۔