Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
20:41
واصطنعتك لنفسي ٤١
وَٱصْطَنَعْتُكَ لِنَفْسِى ٤١
وَٱصۡطَنَعۡتُكَ
لِنَفۡسِي
٤١
Seni kendim için ayırdım.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
20:41 ile 20:44 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz

مختلف تجربات سے گزر کر حضرت موسیٰ تکمیل شعورکے آخری مرحلہ میں پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں پیغمبرانہ دعوت کی ذمہ داری سونپ دی۔ اس وقت حضرت موسیٰ کو دو خاص نصیحتیں کی گئیں۔ ایک خدا کے ذکر میں کمی نہ کرنا۔ دوسرے دعوت میں نرم انداز اختیار کرنا۔

خدا کے ذکر سے مراد یہ ہے کہ آدمی کے قلب ودماغ میں خدا کا یقین اس طرح شامل ہوگیا ہو کہ وہ بار بار اسے یاد آتا رہے۔ آدمی کا ہر مشاہدہ اور اس کی زندگی کا ہر واقعہ اس کے خدائی شعور سے جڑ کر اس کو جگانے والا بن جائے۔ عام انسان مادی غذاؤں پر جیتے ہیں۔ حق کا داعی خدا کی یاد میں جیتا ہے۔ خدا کی یاد مومن کا سرمایہ ہے اور اسی طرح داعی کا بھی۔

دوسری ضروری چیز دعوت میں نرم انداز اختیار کرنا ہے۔ فرعون جیسے سرکش انسان کے سامنے بھیجتے ہوئے یہ ہدایت کا کرنا ثابت کرتاہے کہ دعوت کے لیے نرم اور حکیمانہ انداز مطلق طورپر مطلوب ہے۔ مدعو کی طرف سے کوئی بھی سختی یا سرکشی داعی کو یہ حق نہیں دیتی کہ وہ اپنی دعوت میں نرمی اور شفقت کا انداز کھودے۔