Giriş yap
Giriş yap
Giriş yap
Dil Seçin
26:166
وتذرون ما خلق لكم ربكم من ازواجكم بل انتم قوم عادون ١٦٦
وَتَذَرُونَ مَا خَلَقَ لَكُمْ رَبُّكُم مِّنْ أَزْوَٰجِكُم ۚ بَلْ أَنتُمْ قَوْمٌ عَادُونَ ١٦٦
وَتَذَرُونَ
مَا
خَلَقَ
لَكُمۡ
رَبُّكُم
مِّنۡ
أَزۡوَٰجِكُمۚ
بَلۡ
أَنتُمۡ
قَوۡمٌ
عَادُونَ
١٦٦
Kardeşleri Lut, onlara: "Allah'a karşı gelmekten sakınmaz mısınız? Doğrusu ben size gönderilmiş güvenilir bir elçiyim. Artık Allah'tan sakının ve bana itaat edin. Buna karşı sizden bir ücret istemiyorum; benim ecrim ancak Alemlerin Rabbine aittir. Rabbinizin sizin için yarattığı eşleri bırakıp da, insanlar arasında, erkeklere mi yaklaşıyorsunuz? Doğrusu siz azmış bir milletsiniz" dedi.
Tefsirler
Katmanlar
Dersler
Yansımalar
Cevaplar
Kıraat
Hadis
26:165 ile 26:175 arasındaki ayetler grubu için bir tefsir okuyorsunuz
ہم جنسی پرستی کا شکار ٭٭

لوط نبی علیہ السلام نے اپنی قوم کو ان کی خاص بدکاری سے روکا کہ تم مردوں کے پاس شہوت سے نہ آؤ۔ ہاں اپنی حلال بیویوں سے اپنی خواہش پوری کر جنہیں اللہ نے تمہارے لیے جوڑا بنا دیا ہے۔ رب کی مقرر حدوں کا ادب واحترام کرو۔

اس کا جواب ان کے پاس یہی تھا کہ اے لوط علیہ السلام اگر تو باز نہ آیا تو ہم تجھے جلا وطن کر دیں گے انہوں نے آپس میں مشورہ کیا کہ ان پاکبازوں لوگوں کو تو الگ کر دو۔ یہ دیکھ کر آپ علیہ السلام نے ان سے بیزاری اور دست برداری کا اعلان کر دیا، اور فرمایا کہ ”میں تمہارے اس برے کام سے ناراض ہوں میں اسے پسند نہیں کرتا میں اللہ کے سامنے اپنی برأت کا اظہار کرتا ہوں۔‏“

صفحہ نمبر6300

پھر اللہ سے ان کی لیے بد دعا کی اور اپنی اور اپنے گھرانے کی نجات طلب کی۔ اللہ تعالیٰ نے سب کو نجات دی مگر آپ علیہ السلام کی بیوی نے اپنی قوم کا ساتھ دیا اور انہی کے ساتھ تباہ ہوئی جیسے کہ سورۃ الاعراف، سورۃ ہود اور سورۃ الحجر میں بالتفصیل بیان گزر چکا ہے۔

آپ علیہ السلام اپنے والوں کو لے کر اللہ کے فرمان کے مطابق اس بستی سے چل کھڑے ہوئے حکم تھا کہ آپ علیہ السلام کے نکلتے ہی ان پر عذاب آئے گا اس وقت پلٹ کر ان کی طرف دیکھنا بھی نہیں۔ پھر ان سب پر عذاب برسا اور سب برباد کر دئیے گئے۔ ان پر آسمان سے سنگ باری ہوئی۔ اور انکا انجام بد ہوا۔ یہ بھی عبرتناک واقعہ ہے ان میں سے بھی اکثر بے ایمان تھے۔ رب کے غلبے میں اس کے رحم میں کوئی شک نہیں۔

صفحہ نمبر6301